’براہمداغ کے کیمپ بند کرانے میں افغان مدد‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے اس کی درخواست پر افغانستان کی سرزمین پر بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ براہمداغ بگٹی کے عسکری تربیتی کیمپ بند کرانے میں مدد کی۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’جب براہمداغ بگتی صاحب کابل میں تھے تو اس وقت ہماری اطلاعات تھیں کہ ان کے پانچ ہزار سے زیادہ حمایتی قندھار میں ہیں۔ جس جگہ ان کی تربیت ہوتی تھی، جو تین گھر لیے گئے تھے، ہمیں ان کی بھی خبر تھی۔ ہم نے ان کی پوری اطلاعات (افغانستان کے) صدر کرزئی کو دیں اور میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے ان (تربیتی کیمپوں) کو ختم کرایا اور پھر ہمیں اطلاع بھی دی‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی حکومت نے دنیا کے ساتھ مذاکرات کیے اور انہیں یہ باور کرایا کہ یہ معاملہ ہمارے لیے مسئلہ کیوں ہے کہ براہمداغ بگٹی کابل میں بیٹھے ہیں اور انہیں کہیں اور لے جایا جائے۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق وزیرِداخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ موقف سمجھا گیا اور براہمداغ بگٹی نے جس ملک میں بھی جانے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی تو اقوامِ عالم نے مدد کر کے انہیں وہیں بھیجا۔

خیال رہے کہ بلوچ قوم پرست رہنماء اس وقت سوئٹزرلینڈ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption براہمداغ سوئٹزرلینڈ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں

پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کہا ’جب سے وہ (براہمداغ بگٹی) تشریف لے گئے ہیں ان کی سرگرمیوں میں کافی کمی آئی ہے‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جس نے بھی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے یا کروانے کا منصوبہ بنایا ہے وہ اتنی جلدی اپنی سرگرمیاں ترک نہیں کرے گا۔

رحمان ملک نے یہ نہیں بتایا کہ کس نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے حکومت، پاکستان کی افواج، خفیہ ادارے اور دیگر متعلقہ ادارے اپنا کام کر رہے ہیں۔

وزیرِ داخلہ نے بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کی خواہاں بلوچ تنظیموں اور رہنماؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان سب کی نگرانی کی جارہی ہے۔

اسی بارے میں