تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر برطرف

 فقیر محمد تصویر کے کاپی رائٹ no credit
Image caption فقیر محمد کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی وجہ بیان نہیں کی گئی

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی شوریٰ نے تحریک کے نائب امیر فقیر محمد کو اپنے عہدے سے ہٹا دیاہے تاہم ابھی ان کی جگہ کسی دوسرے فرد کو امیر کو مقرر کرنے کی اطلاع نہیں ہے۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے نائب ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ گزشتہ جمعہ کو حکیم اللہ محسود کی سربراہی میں تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی شوری کا اجلاس ہوا جس میں شوریٰ کے نو اہم کمانڈروں نے حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ شوریٰ کے اجلاس میں بُہت سے اہم فیصلوں کے علاوہ تحریک کے نائب امیر فقیر محمد کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ بھی کیاگیا ہے۔

احسان اللہ مطابق اب وہ تحریک طالبان پاکستان میں ایک عام جنگجو کی حثیت سے کام کریں گے البتہ یہ بات بھی زیرِ غور ہے کہ ان کو کوئی دوسرا عہدہ دیا جائےگا۔

ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ابھی تک کسی دوسرے امیر کا نام سامنے نہیں آیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئندہ اجلاس میں کسی نئے امیر کا فیصلہ کیا جائےگا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت یہ نہیں بتاسکتے کہ فقیر محمد کو ان کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا ہے اور وہ صرف حکیم اللہ محسود کے حُکم کے مطابق میڈیا کو یہ خبر دے رہے ہیں۔

اس سلسلے میں تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر فقیر محمد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہیں ہوسکا۔

یاد رہے کہ فقیر محمد کا تعلق قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے ہے اور ان کا شمار تحریک طالبان پاکستان کے اہم کمانڈروں میں ہوتا ہے۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر کی حثیت سے فعال تھے لیکن کُچہ عرصے سے تنظیم کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہونے کی اطلاعات آ رہی تھیں۔

گزشتہ سال عید الفطر کے موقع پر جب باجوڑ سے تحریک طالبان پاکستان نے بیس سے زیادہ بچوں کو اغواء کیا تھا تو اس وقت طالبان کے ایک اور کمانڈر مولوی داداللہ نے فقیر محمد پر حکومت کے ساتھ رابطے کرنے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ فقیر محمد کا تنظیم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

چند دن بعد فقیر محمد نے خود بی بی سی سے رابطہ کر کے بتایا تھا کہ ان کے تنظیم کے ساتھ چھوٹے موٹے اختلافات ہیں لیکن تنظیم میں ان کا عہدہ بدستور برقرار ہے۔

اسی بارے میں