خیبر: کالعدم تنظیموں میں جھڑپیں جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خیبر ایجنسی میں کالعدم تنظیموں کے درمیان گزشتہ دو ماہ سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کالعدم شدت پسند تنظیموں تحریک طالبان پاکستان اور لشکر اسلام کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اطلاعات ہیں کہ تازہ جھڑپ میں چار عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو تصدیق کی کہ پیر کی صبح خیبر ایجنسی کے دور افتادہ پہاڑی علاقے وادی تیراہ میں دواتویا کے مقام پر تحریک طالبان اور لشکر اسلام کے جنگجوؤں کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ فریقین نے ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑائی میں اب تک چار عسکریت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کا تعلق کس تنظیم سے ہے۔

جمعہ کو بھی تیراہ کے علاقے نحقی میں لشکر اسلام کے ایک مرکز پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں بیس سے زائد جنگجو مارے گئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان درہ آدم خیل نے قبول کی تھی۔

تنظیم کے ترجمان محمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا تھا کہ دو ماہ قبل باڑہ میں ان کے گیارہ ساتھی لشکر اسلام کے ہاتھوں مارے گئے تھے اور یہ حملہ اس واقعہ کا بدلہ تھا۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں لشکر اسلام اور تحریک طالبان کے جنگجوؤں کے درمیان تقریباً گزشتہ دو ماہ سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک دونوں جانب سے کئی افراد مارے جا چکے ہیں۔

یہ جھڑپیں ایک ایسے وقت ہو رہی ہیں جب باڑہ سب ڈویژن کے چند علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اس آپریشن کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

جمعہ کو بھی باڑہ کے علاقے میرئی سر میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں کم سے کم دس ایف سی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ جوابی حملے میں بیس سے زائد شدت پسندوں کی مارنے جانے کی اطلاعات تھیں۔

اس آپریشن کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے تھے جنہوں نے جلوزئی مہاجر کیمپ میں پناہ لے رکھی ہے۔

اسی بارے میں