پاکستان:دو ماہ میں پولیو کے تیرہ نئے مریض

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں گزشتہ برس پولیو کے ایک سو اٹھانوے مریض منظرِ عام پر آئے

پاکستان کے شمالی وزیرستان میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آنے کے بعد اس قبائلی علاقے میں گزشتہ برس سے لے کر اب تک پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد پندرہ ہوگئی ہے۔

اسلام آباد کی پولیو لیبارٹری نے پیر کو میران شاہ کے علاقے مامی روغہ کے رہائشی جان اللہ کے سات ماہ کے بیٹے بخت اللہ کو پولیو سے متاثرہ قرار دیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ستمبر 2009 سے اب تک وزیرستان کے پچیس ہزارسے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے جس کی وجہ انتہاپسندوں کے خلاف عسکری اداروں کی کاروائی کی وجہ سے ان علاقوں تک رسائی نہ ہونا ہے۔

ادارے کے اعداوشمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس پولیو کے ایک سو اٹھانوے مریض منظرِ عام پر آئے جبکہ رواں سال میں اب تک بلوچستان اور سندھ سے دو دو، پنجاب سے ایک، فاٹا سے تین اور خیبر پختونخوا سے پولیو کے چار کیس سامنے آئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بخت اللہ کا کیس شمالی وزیرستان سے رواں سال کا پہلا جبکہ آپس میں تعلق والے پولیو وائرس کا پندرہواں کیس ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی اردو کی ارم عباسی کو بتایا ’ہمارے لیے ایک دوسرے سے متعلقہ پولیو کیس زیادہ خطرے کا باعث ہوتے ہیں کیونکہ یہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پولیو وائرس نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو انتہائی خطرے کی بات ہے‘۔

خیال رہے کہ اب دنیا میں پاکستان، افغانستان اور نائجیریا صرف تین ملک ایسے ہیں جو پولیو پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں اور اس وقت دنیا بھر میں ستّر فیصد سے زائد پولیو کے نئے مریضوں کا تعلق پاکستان سے ہی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نےگزشتہ برس اکتوبر میں چین کے صوبے زینگ جیانگ میں سامنے آنے والے پولیو کے کیس کی ذمہ داری بھی پاکستان پر عائد کی تھی کیونکہ تجزیے سے یہ بات ثابت ہو گئی تھی کہ اس کیس کا تعلق پاکستان میں پائے جانے والے وائرس سے تھا۔

واضح رہے کہ اگر پاکستان نے پولیو کے پھیلاؤ پر جلد قابو نہ پایا تو دنیا بھر میں پاکستانیوں پر بین الاقوامی سفر سے قبل پولیو کے قطرے پینے کی شرط بھی عائد ہو سکتی ہے جس کی زندہ مثال سعودی عرب ہے جہاں پر پاکستان ، افغانستان اور نائیجیریا سے سفر کرنے والے تمام افراد کو پولیو کے قطرے پینے لازم کر دیے گئے ہیں ۔

اسی بارے میں