دیہی سندھ سے جج نہ بنانے پر عدالتوں کا بائیکاٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ججوں کی تقرری کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں پیر کو وکلاء نے عدالتوں میں ججوں کی کمی اور بھرتیوں میں دیہی سندھ کو نظر انداز کیے جانے پر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔

سندھ بار کونسل نے اس معاملے پر پیر کو احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

کراچی، حیدرآباد ، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور نوابشاہ سمیت سندھ کے تمام اضلاع میں وکلاء نے عدالتی کارروائی کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا، جس کے بعد کئی شہرو ں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی بار کے صدر محمودالحسن کا کہنا ہے کہ ’ججوں کی بھرتی کا مطالبہ انتہائی دیرینہ ہے، کیونکہ کام بڑہ گیا ہے کہ مگر ججوں کی تعداد کم ہے، سندھ ہائی کورٹ میں چالیس کی گنجائش ہے مگر اس کی جگہ پر بارہ جج کام کر رہے ہیں‘۔

کراچی بار کے صدر کے مطابق اندرون سندھ میں بھی کئی قابل وکلاء ہیں انہیں بھی جج مقرر کیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت میں ججوں کی تقرری کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا گیا ہے، جس کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر یاسین آزاد کے مطابق ’پہلے تو یہ کہا جاتا تھا کہ حکومت ججوں کی تقرری نہیں کر رہی، اب جوڈیشل کمیشن تقرریاں کرتا ہے، اس لیے لوگ سوال کرتے ہیں کہ اب یہ تمام اختیارات آپ کے پاس ہیں تو کیو ں تقرریاں نہیں ہو رہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تقرریوں میں سندھی وکلاء کو نظر انداز کرنا سراسر زیادتی ہے۔ دیہی سندھ میں ایک سے ایک قابل وکیل موجود ہے ان پر غور نہیں کیا جا رہا ہے، حالانکہ ان میں سے کئی وکلا کراچی میں پریکٹس کرتے ہیں‘۔

اعلیٰ عدالتوں میں سندھی جج کی عدم موجودگی پر جاری احتجاج میں وکلاء کے ساتھ قوم پرست جماعتیں بھی شریک ہیں۔ عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ پاکستان کے جو آئینی ادارے ہیں ان میں سندھ کے لوگوں کی موجودگی آئین کا تقاضا ہے۔

ایاز لطیف کا کہنا تھا کہ سندھ کے وکلاء نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا اور بحالی سے قبل حیدرآباد میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے اعتراف کیا تھا کہ سندھ کے وکلاء نے انہیں حوصلہ اور جذبہ دیا، مگر جیسے ہی چیف جسٹس بحال ہوئے اس وقت سے لےکر سندھ ہائی کورٹ میں سندھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

عوامی تحریک کے سربراہ کے مطابق سندھ میں یہ شدید احساس محرومی ہے کہ جہاں اے کے بروہی، عبدالحفیظ پیرزادہ ، مجیب پیرزادہ اور رسول بخش پلیجوجیسے وکلا پیدا ہوتے رہے ہیں، کیا وہاں کوئی قابل وکیل نہیں جسے جج بنایا جا سکے۔