مولوی فقیر حکومت سے مذاکرات کےحامی

 فقیر محمد تصویر کے کاپی رائٹ no credit
Image caption افغان طالبان کے امریکہ سے مذاکرات ہو سکتے ہیں تو تحریک طالبان کے حکومت سے مذاکرات کیوں نہیں ہو سکتے: مولوی فقیر

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم رہنما اور باجوڑ طالبان کے کمانڈر مولوی فقیر محمد نے افغان طالبان کی امریکہ سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سرحد پار عسکریت پسند امریکہ سے بات چیت کر سکتے ہیں تو یہاں کے طالبان بھی مذاکراتی عمل میں کیوں شامل نہیں ہوسکتے ۔

مولوی فقیر محمد نے منگل کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ملامحمد عمر پاکستان اورافغانستان کے طالبان کے ’امیر المومنین ہیں‘ اور دونوں ممالک کے عسکریت پسند ان کے ماتحت کام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر افغانستان میں ملا عمر کی سربراہی میں امریکہ جیسے ملک سے مذاکرات ہوسکتے ہیں تو یہاں کے طالبان اپنے شرائط پر حکومت سے مذاکراتی عمل میں کیوں شامل نہیں ہوسکتے۔‘

یاد رہے کہ تین دن پہلے تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی شوری نے تحریک کے نائب امیر مولوی فقیر محمد کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ ان کا شمار تحریک کے بانی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

مولوی فقیر محمد سے جب تحریک کے مرکزی شوری کے فیصلے کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں بھی میڈیا کے ذریعے سے معلوم ہوا ہے کہ انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ وہ تحریک کے اس فیصلے کی نہ تصدیق کرسکتے ہیں اور نہ تردید۔‘

مولوی فقیر محمد نے مزید بتایا کہ انہیں کچھ معلوم نہیں کہ انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کس شوریٰ نے کیا ہے اور اس میں کون کون لوگ شامل تھے اور یہ کیونکر کیا گیا ہے۔

طالبان کمانڈر کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے انہوں نے جتنی مرتبہ بھی حکومت سے امن مذاکرات کئے تو تحریک کے اکابرین کو اعتماد میں لیا گیا اور اس سلسلے میں ہونے والے ہر ہر فیصلے سے تحریک کے امیر حکیم اللہ محسود اور دیگر کو آگاہ کرتے رہیں ہیں۔

خیال رہے کہ اتوار کو تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں مولوی محمد فقیرمحمد کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اسکی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مولوی فقیر محمد کو نائب امیر کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے جبکہ اس بات پر غور کیا جارہا ہے انہیں تحریک میں کوئی اور عہدہ دیا جائے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مولوی فقیر محمد کو ان کو عہدے سے ہٹانے کی خبریں بہت پہلے سے گردش کر رہی تھیں تاہم اس کا کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ تحریک کے رہنماؤں کے مابین اس معاملے پر اختلافات پائے جاتے تھے کہ مولوی فقیر حکومت سے مذاکرات کے حامی تھے جبکہ دیگر کمانڈر اس کی مخالفت کرتے رہیں ہیں۔

اسی بارے میں