ڈی سی گوادر کے قتل کا مقدمہ درج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں گوادر کے ڈپٹی کمشنر افسر عبدالرحمان دشتی کے قتل کا مقدمہ میر امام بزنجو کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔

عبدالرحمان دشتی کی لاش پیر کی شب امام بزنجو کے گھر کے باہر موجود ایک گاڑی سے ملی تھی۔

کلفٹن تھانے پر مقتول عبدالرحمان کے بھتیجے مقبول حسین کی مدعیت میں رکن قومی اسمبلی یعقوب بزنجو کے والد امام بزنجو کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مدعی نے بتایا ہے کہ ان کے چچا کا ٹیلیفون پر امام بزنجو سے رابطہ ہوا تھا، جس کے بعد وہ ان کے گھر چلے گئے جہاں امام بزنجو نے انہیں سر میں گولی مارکر ہلاک کر دیا۔

دوسری جانب ڈی آئی جی جنوبی کمانڈر شوکت کا کہنا ہے کہ ڈی سی او اپنے دوست امام بزنجو سے ملنے آئے تھے جہاں ان کی تلخ کلامی ہوئی اور میر امام نے انہیں ہلاک کر دیا۔

پولیس کے مطابق قتل کے بعد لاش کو سرکاری گاڑی میں رکھ دیا گیا اور اسے کسی اور جگہ پھینکنے کی تیاری کی جا رہی تھی جبکہ ملازمین جائے وقوعہ کو دھونے کی کوشش کر رہے تھے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پولیس نے دو ملازمین یار محمد اور آفتاب کو گرفتار کرلیا ہے اور امام بزنجو مفرور ہیں۔

امام بزنجو کا شمار تربت کی اہم سیاسی شخصیات میں کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں