امریکی انخلاء، ’پاکستان کے زمینی راستے درکار ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جیمز میٹس نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے اور ان کو امید ہے کہ افغانستان میں اتحادی فوج کی رسد کے زمینی راستے بحال کردی جائیں گے۔

یہ بات جنرل میٹس نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے مسلح افواج میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔

یاد رہے کہ پاکستان نے نومبر چھبیس کو سرحدی چوکی سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو فوج کو رسد لے جانے والے زمینی راستے بند کردی تھے۔ اس حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

جنرل میٹس نے کہا کہ امریکہ نے ابھی تک اپنی فوج کو رسد فضائی راستوں اور افغانستان کی شمالی سرحد کے ذریعے فراہم کی ہے۔

جنرل میٹس کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کی واپسی کے لیے پاکستان کے زمینی راستے درکار ہیں۔ یاد رہے کہ اس سال ستمبر تک امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر کے اڑسٹھ ہزار کرنی ہے۔

’افغانستان سے فوجیوں کی واپسی کے لیے ہمیں پاکستان کے زمینی راستے درکار ہیں۔ اور جہاں تک راستے کھولنے کا معاملہ ہے میں اگلے دس روز میں دورے پر پاکستان جاؤں گا اور راستے کھولنے پر بات چیت ہو گی۔‘

امریکی حکام کو امید ہے کہ پاکستان کی پارلیمان میں امریکہ کے ساتھ روابط پر بحث کے بعد راستے کھول دیے جاییں گے۔

جنرل میٹس نے کہا کہ جب وہ پاکستان پہنچیں گے اس وقت تک پارلیمان میں بحث ختم ہو چکی ہو گی اور اس بارے میں فیصلہ ہو گیا ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا وہ پرامید ہیں کہ پاکستان رسد کے راستے کھول دے گا، جنرل میٹس نے کہا ’میں پرامید ہوں۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرِ دفاع احمد مختار کہہ چکے ہیں کہ حکومتِ پاکستان نے نیٹو کو فضائی راستے سے افغانستان رسد پہنچانے کی اجازت دی ہے۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ یہ اجازت مختصر مدت کے لیے دی گئی ہے اور اس دوران ایسی اشیاء افغانستان بھیجی جا سکیں گی جن کے جلد خراب ہونے کا خدشہ ہو۔

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ نیٹو کو یہ اجازت کب دی گئی ہے۔ وزارتِ دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو افواج کو صرف کھانے پینے کی اشیاء افغانستان پہنچانے کے لیے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ’ہم نے انہیں کہا ہے کہ وہ رسد فضائی راستے سے پہنچائیں اور فی الحال خوراک کے علاوہ اور کچھ نہ لائیں‘۔

اسی بارے میں