قرآن کے جلائے جانے خلاف مذمتی قرارداد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ نے افغانستان میں نیٹو فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کے جلائے جانے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی ہے۔

قرارداد میں سینیٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ، عالمی برادری اور امریکہ سے اس واقعے میں مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کے حوالے سے رابطے کیے جائیں۔

سنینیٹ نے قرارداد میں مطالبہ کیا ہے کہ مسلم ممالک کو بھی نیٹو اور امریکہ سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ ذمہ دار فوجیوں کے خلاف لارروائی کی جائے۔

متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے ’سینیٹ افغانستان میں نیٹو فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کے جلائے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔‘

واضح رہے کہ فروری کے مہینے میں امریکی فوجی اڈے پر قرآنی نسخوں کو نذرِ آتش کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

اس واقعے کے ردعمل میں افغانستان میں چھ روز تک پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جن میں کم از کم تیس افراد مارے گئے تھے جبکہ افغانستان میں تعینات چھ امریکی فوجی بھی اسی ردعمل سے جڑے واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما قرآن جلائے جانے کے واقعے پر معافی مانگ چکے ہیں اور انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی کے نام ایک خط میں اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ غیر ارادی طور پر پیش آیا۔

اسی بارے میں