’مزید 28 فیصد کو صاف پانی تک رسائی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جن افراد کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے ان میں سے چالیس فیصد افراد افریقہ میں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا کی نواسی فیصد آبادی کو صاف پانی تک رسائی حاصل ہے جو سنہ انیس سو نوے میں چھہتر فیصد تھی۔

اقوامِ متحدہ نے صدی کا ترقیاتی ہدف سنہ دو ہزار پندرہ تک حاصل کرنا تھا جو کہ قبل از وقت حاصل کر لیا گیا ہے۔

اگرچہ یہ صدی کا ترقیاتی ہدف کا حصول اہم ہے لیکن امدادی تنظیم واٹر ایڈ کے مطابق صدی کے ترقیاتی اہداف میں جو دیگر اہداف ہیں ان کے حصول کے لیے پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

واٹر ایڈ کے مطابق صفائی کے حوالے سے ہدف میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ تنظیم کے مطابق اس حوالے سے سب سے بڑا چیلنج بھارت میں ہے جہاں باسٹھ کروڑ ساٹھ لاکھ افراد کو غسل خانے میسّر نہیں ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سنہ انیس سو پچانوے سے سنہ دو ہزار گیارہ تک پاکستان میں ان افراد میں اٹھائیس فیصد اضافہ ہوا ہے جن کو صاف پینے کے پانی تک رسائی حاصل ہے۔ تاہم یہ شرح بھارت میں تینتیس فیصد اور افغانستان میں انچاس فیصد ہے۔

اسی طرح سنہ انیس سو پچانوے سے لے کر سنہ دو ہزار گیارہ تک پاکستان میں چوبیس فیصد آبادی کو صحت و صفائی کی سہولیات تک رسائی ملی ہے۔ تاہم یہ شرح بھارت میں محض سترہ فیصد ہے اور افغانستان میں انیس فیصد ہے۔

عالمی تنظیم کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس ہدف کے حصول کو سراہا۔ انہوں نے ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مقصد کو محض ایک خواب کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے صحت کی بہتری کی جانب ایک اہم قدم سمجھا۔

تاہم پینے کے صاف پانی تک رسائی کی شرح میں جو بہتری آئی ہے وہ غیرمتوازی ہے۔ جن افراد کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے ان میں سے چالیس فیصد افراد افریقہ میں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں اسی کروڑ افراد اب بھی گندا پانی پیتے ہیں۔ تاہم بیس سال میں دو ارب لوگوں کو صاف پانی مہیا ہوا ہے۔

صدی کے دیگر ترقیاتی اہداف میں غربت میں کمی اور تعلیم تک رسائی ہیں۔ ان اہداف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دو ہزار پندرہ تک پورے نہیں ہو سکیں گے۔

ان اہداف کی حصول میں بڑی رکاوٹ عالمی معاشی بحران اور آبادی میں اضافہ ہے۔

اسی بارے میں