بدسلوکی کے واقعہ میں فیصلہ محفوظ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کا الیکشن کمیشن اس کیس میں اپنا فیصلہ بدھ کو سنائےگا

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس تریپن کے ضمنی انتخاب کے نتیجے اور اسی حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار کی جانب سے خواتین پولنگ سٹاف کو تھپڑ مارنے کے واقعہ سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان افضل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر نے صوبائی حلقہ کے ریٹرننگ افسر کو واقعہ کی فوری تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا جس پر ریٹرننگ افسر نے تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ بھی کمیشن کو پیش کردی ہے۔

ترجمان کے مطابق منگل کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ حامد علی مرزا اور چاروں صوبوں کے اراکین پر مشتمل الیکشن کمیشن نے اس معاملے کی سماعت کی اور فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا جو بدھ کو سنایا جائے گا۔

اسلام آباد سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار احمد رضا نے بتایا کہ صوبۂ سندھ کے ضلع ٹنڈو محمد خان کی یہ نشست پیپلز پارٹی کے رکن سید محسن شاہ بخاری کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی جس پر پارٹی نے ان کی بیوہ وحیدہ شاہ کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔

پچیس فروری کو ضمنی انتخاب کے دوران ٹنڈو محمد خان کے ایک پولنگ سٹیشن پر وحیدہ شاہ نے کسی بات پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے پولنگ سٹاف میں شامل دو خواتین کو تھپڑ رسید کردیے تھے۔ ٹی وی کیمرہ مینوں نے اِن مناظر کو فلمبند کرلیا تھا جس کے بعد ٹی وی چینلز پر یہ مناظر دو دن تک نشر ہوتے رہے تھے۔

غیرحتمی نتائج کے مطابق ضمنی انتخاب میں وحیدہ شاہ نے سب سے زیادہ ووٹ لیے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے واقعہ کے بعد نتیجہ روک لیا تھا اور ان کے خلاف پولیس میں مقدمہ بھی درج کرایا تھا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی واقعہ کا ازخود نوٹس لیا اور وحیدہ شاہ کو عدالت میں طلب کیا تھا۔ وحیدہ شاہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ غلط فہمی کا نتیجہ تھا جس پر انہوں نے پولنگ سٹاف سے معافی بھی مانگی ہے۔

اسی بارے میں