سندھ:’قوم پرست رہنما میر عالم مری لاپتہ‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خیال رہے کہ میر عالم مری کے لاپتہ ہونے کا واقعہ اس دن پیش آیا جو سینیٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے حق میں قرارداد منظور کی گئی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے نوجوان قوم پرست رہنما اور مصنف میر عالم مری اپنے ساتھی کے ساتھ حیدرآباد سے مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔

ان کی جماعت نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں پاکستان کے انٹلی جنس اداروں نے حراست میں لیا ہے۔

جیئی سندھ قومی محاذ کا کہنا ہے کہ ان کے رہنما کو منگل کی شام اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ بھٹائی نگر کے قریب واقعے ایک ہوٹل پر بیٹھے ہوئے۔

تنظیم کے چیئرمین عبدالواحد آریسر کے مطابق’ایک سیاہ رنگ کی گاڑی اور پولیس موبائل میں سوار اہلکار وہاں پہنچے اور میر عالم مری اور ان کے ساتھ موجود راجہ داہر کو اٹھا کر لے گئے، جنہیں نامعلوم جگہ پر منتقل کردیا گیا ہے۔‘

دوسری جانب حیدرآباد کی بھٹائی نگر پولیس نے گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ڈاکٹر میر عالم مری جیئے سندھ قومی محاذ کے سینیئر نائب صدر ہیں، وہ سندھ کی سیاست پر کئی کتابوں کے منصف ہیں اور اخبارات میں باقاعدگی کے ساتھ لکھتے رہے ہیں، اپنی حالیہ تحریروں میں انہوں نے بلوچستان میں جاری بلوچ تحریک کی بھرپور حمایت کی تھی۔

جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین عبدالواحد آریسر کا کہنا ہے کہ آزادی ہر کسی کا بنیادی حقوق ہے، جب وہ یہ بات کرتے ہیں تو انہیں غدار قرار دیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا وقار یہاں کے خفیہ اداروں نے خراب کیا ہے۔

آریسر کے مطابق بلوچستان کے ساتھ سندھ سے بھی لوگ لاپتہ ہیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اس کا نوٹیس کیوں نہیں لیتے۔

جیئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین عبدالواحد آریسر متحدہ قومی موومنٹ کے قریب سمجھے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے سندھ کے قوم پرست حلقے ان پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں، آریسر نے ڈاکٹر میر عالم کی بازیابی کے لیے الطاف حسین سے مدد کی اپیل کی اور کہا کہ وہ ان کا ساتھ دیتے رہے ہیں اب ان کی باری ہے۔

اسی بارے میں