سندھ: دو خواتین کودارلامان بھیجنے کا فیصلہ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور کی ایک عدالت نے دو خواتین کو دارالامان بھیج دیا ہے۔ جرگے میں خواتین کو قتل کرنے کے فیصلے کی اطلاعات پر پولیس نے انہیں بازیاب کیا تھا۔

مسمات خورشید اور مسمات عجیباں کو پولیس نے انتہائی غیر معمولی حفاظتی انتظامات میں بدھ کو شکارپور کی عدالت میں پیش کیا۔ خواتین کا کہنا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے انہیں دارالامان بھیجا جائے۔ تاہم عدالت نے ان کی یہ درخواست قبول کرتے ہوئے انہیں سکھر شہر کے دارالامان بھیجنے کا حکم دیا۔

مقامی سندھی نیوز چینل پر شر برداری کے جرگے میں دو خواتین کو ’ کاری‘ قرار دے کر قتل کرنے کے فیصلے کی خبروں کا اعلٰی حکام نے نوٹس لیا اور آئی جی سندھ پولیس کے حکم پر ایس پی لاڑکانہ اعتزاز گورایا نے شکارپور پہنچ کر خواتین کو بازیاب کیا۔ گورایا نے بتایا کہ ان خواتین کی زندگی بچانے میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایس پی کا کہنا ہے کہ جرگے میں خواتین کو کاری قرار دیکر قتل کرنے کا فتوٰی جاری کیا گیا تھا اور دونوں خواتین کو ایک کمرے میں بند رکھا گیا تھا۔

پولیس نے شر برداری کے بیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ صوبائی وزیرِ داخلہ منظور وسان نے علاقے کے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو معطل کردیا ہے۔

مسمات خورشید نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو لینے وزیر آباد گئی تھیں جسے چند روز پہلے طلاق دی گئی تھی۔ مسمات عجیباں اور دو بچے بھی ان کے ساتھ تھے۔ راستے میں انہیں مخالف قبیلے کے لوگوں نے اغوا کرلیا اور بعد میں رہا کردیا گیا۔

یہ خواتین جب واپس گاؤں پہنچیں تو شر برادری نے انہیں کاری قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ مخالفین نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہوگی۔

اسی بارے میں