توہین عدالت کیس:مرکزی گواہ کا بیان قلمبند

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمے کی مرکزی گواہ سیکریٹری کابینہ اور دفاع نرگس سیٹھی نے بدھ کو عدالتِ عظمیٰ میں اپنا بیان قلمبند کرا دیا ہے۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے وزیرِ اعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت شروع کی تو جسٹس ناصر الملک نے یوسف رضا گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن کو مقدمے سے متعلق شواہد جمع کروانے کا حکم دیا۔

اس پر این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے وزراتِ قانون کی جانب سے وزیرِ اعظم کو بھجوائی گئی سمریز عدالت میں پیش کی گئیں۔

عدالت نے مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس ناصر الملک نے اعتزاز احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے سے متعلقہ شواہد سماعت کے شروع ہونے سے پہلے جمع کروانے چاہیے تھے۔

نرگس سیٹھی نے عدالت کو بتایا کہ وہ پندرہ دسمبر دو ہزار آٹھ سے لے کر سترہ جنوری دو ہزار گیارہ تک وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی پرنسیپل سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیتی رہی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ارم عباسی کا کہنا ہے کہ اعتزاز احسن نے نرگس سیٹھی سے سوالات کا سلسلہ شروع کیا تو جج صاحبان نے انہیں جرح کرنے سے روکا جس پر وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’جرح وہ ہوتی ہے جس کا جواب ہاں یا نہ میں آئے جبکہ میرے سوالات ان دستاویزات سے متعلق ہیں جو عدالت میں پیش کی گئی ہیں۔‘

اعتزاز احسن نے عدالت کے اندر اور باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بھی شکایت کی کہ انہیں محسوس ہوا ہے کہ سماعت کے دوران انہیں بہت سے سوالات نہیں پوچھنے دیے گئے تاہم انہوں نے کہا ’لیکن چلیں ابھی مقدمہ جاری ہے۔‘

نرگس سیٹھی نے عدالت کو بتایا کہ وہ سرکاری معاملات میں وزیز اعظم کی معاونت کرتی رہی ہیں۔

عدالت نے نرگس سیٹھی کا تحریری بیان قلمبند کرنے کا حکم دیا۔

اعتزاز احسن کے سوال پر نرگس سیٹھی نے بتایا کہ ان کے کابینہ کی اقتصادی کمیٹی کے گیارہ اجلاس کی سربراہی وزیر اعظم نے کی جبکہ وہ ہر ماہ تقریباً ہزار فائلیں نمٹاتے ہیں۔

ایک موقع پر اعتزاز احسن نے نرگس سیٹھی سے استفسار کیا کہ کیا کھبی وزیرِ اعظم نے ان کی موجودگی میں عدلیہ کی توہین کی جس پر نرگس سیٹھی نے کہا کہ ایسا کوئی واقعہ کھبی بھی پیش نہیں آیا۔

عدالت نے اعتزاز احسن سے کہا کہ وہ غیر متعلقہ سوالات پوچھ کر وقت ضائع نہ کریں جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ استغاثے کا کردار ادا کر رہے ہیں جس کے جواب میں بینچ کا کہنا تھا کہ وہ جج ہیں اور اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق اس مقدمے میں استغاثے کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

عدالت نےکم و بیش ہر سوال پر اعتزاز احسن کو نرگس سیھٹی سے جرح کرنے سے باز رہنے کو کہا جس پر وزیرِ اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ محض سوالات پوچھ رہے ہیں تاکہ اگر سات رکنی بینچ ان کے خلاف فیصلہ دیتا ہے تو وہ کم از کم بیان کی بنیاد پر فیصلے کے خلاف اپیل کر سکیں جو کے ان کا قانونی حق ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے سماعت کے دوران کہا ’نرگس سیٹھی سے سوالات کا مقصد عدالت سمجھ نہیں سکی۔ کیا وہ وزیرِ اعظم گیلانی کو کیریکٹر سرٹیفیکیٹ دے رہی ہیں۔‘

جس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ’میرا مقصد عدالت کو مدعا علیہ کے کردار کے بارے میں بتانا ہے۔‘

وزیرِ اعظم گیلانی کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمے کی سماعت کل ساڑھے نو بجے سپریم کورٹ میں شروع ہو گی جس میں اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق مقدمے کی مرکزی گواہ نرگس سیٹھی سے جرح کریں گے۔

اسی بارے میں