پاکستانی سینیٹ کا الوداعی اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے الوداعی اجلاس میں جمعرات کو دس اراکین نے خطاب کیا اور بلوچستان کے حالات کی سنگینی کی گونج ایک بار پھر سنائی دی لیکن اس پر حکومت نے حسب روایت کوئی نوٹس لیا اور نہ ہی جواب دیا۔

بارہ مارچ کو پچاس سینیٹر ریٹائر ہوں گے اور ان میں سے کچھ تو دوبارہ منتخب ہوچکے ہیں لیکن سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی مرہون منت منتخب ہوکر آنے والے اکثر ریٹائرڈ ہونے والے سینیٹرز کا یہ آخری اجلاس ہے جو جمعہ کو ملتوی ہوجائے گا۔

سینیٹ کا دوبارہ اجلاس بارہ مارچ کو ہوگا جس میں نئے سینیٹرز حلف اٹھائیں گے۔

جمعرات کی کارروائی کی ایک اہم بات ریٹائر ہونےوالے ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی کی تقریر تھی جس میں انہوں نے کھل کر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں پارلیمان سے محبت ہے۔ ’سنہ انیس سو تینتیس سے ہمارا خاندان سیاست میں ہے اور اس زمانے میں محمد علی جناح برطانوی سرکار کے خلاف مقدمات میں ہمارے وکیل تھے۔ ہمارے ہاں خان عبدالغفار خان کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ ایچی سن کالج سے پڑھنے کے بعد فوج میں گئے اور جب ضیاءالحق نے مارشل لا لگایا تو ان کی پوسٹنگ سندھ میں تھی جہاں انہیں ایسے احکامات ملے کہ انہوں نے مستعفیٰ ہونا مناسب سمجھا۔

’اس وقت ریاست کی مخالفت اور حکومت کی مخالفت میں تمیز واضح نہیں تھی۔ کبھی غفار خان کو اینٹی سٹیٹ کہا گیا تو کبھی بلوچوں کو۔‘

ان کے بقول جماعت علی سے کوئی نہیں پوچھتا جو پاکستان کا پانی بھارت کو بیچ کر چلا گیا۔ انہیں بلائیں اور ان سے پوچھیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں کے قتل پر نیلسن منڈیلا نے’سچائی کمیشن‘ بنایا اور ذمہ داران کو سزاد دی اسی طرح بلوچستان میں قتل عام پر بھی اس طرز کا کمیشن بنائیں اور ذمہ دار جرنیلوں کو بلائیں۔

انہوں نے کہا ’پاکستان کو جرنیلوں اور افسروں نے نقصان پہنچایا لیکن الزام سیاستدانوں پر آتا ہے۔ بنگلہ دیش کے برابر حقوق لینے کے لیے موجودہ پاکستان کو ون یونٹ بنا کر برابری کے حقوق مانگے گئے اور آج سندھ ہو یا بلوچستان وہ برابری کا حق مانگتے ہیں۔‘

ان کے بقول ’بلوچستان کے حالات بہت خراب ہیں، مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں، لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں، ملک چلانے کے لیے ججوں، جرنیلوں، اداروں کے سربراہوں اور افسروں کی بھرتی میں ہر صوبے کو برابر کا حصہ دینا ہوگا ورنہ یہ ملک نہیں چلے گا۔‘

انہوں نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے بارے میں کہا کہ اداروں کو قاعدے میں لانا ہوگا۔ ہر صوبے کا اپنا کلچر ہے۔ لاہور کی سیاست کوئٹہ اور کراچی کی سیاست خضدار میں نہیں چلے گی۔ مجھے مستقبل کی صورت حال اچھی نظر نہیں آ رہی۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق ایک موقع پر جب انہیں تقریر مختصر کرنے کا کہا گیا تو انہوں نے کہا ’میں ڈپٹی چیئرمین تھا اس لیے تین برسوں سے نہیں بولا آج مجھے کھل کر بولنا ہے۔ میں کچھ دکھ لے کر جا رہا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے تھے کہ ان کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، ان سے قبرستان بھرے پڑے ہیں۔ ان کے بقول سب نے جانا ہے اور یہ کام ایسے ہی چلتے رہیں گے۔

جمیعت علماء اسلام (ف) کے اسماعیل بلیدی نے کہا کہ وہ پندرہ برس سینیٹر رہے اور ابتدا سے ہی بلوچستان کے بارے میں بولتے رہے کہ وہاں حالات خراب ہیں اس کا ازالہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت لوگ ان پر ہنستے رہے لیکن اب امریکی کانگریس میں یہ معاملہ اٹھنے کے بعد پریشان ہیں۔

جان جمالی ہوں یا اسماعیل بلیدی اور بعض دیگر اراکین، انہوں نے بلوچستان کے حالات کو بنگلہ دیش سے تعبیر کیا اور کہا کہ پاکستان کے ہر ادارے میں جب تک برابری کی بنیاد پر صوبوں کو نمائندگی نہیں ملے گی تو پھر بلوچستان بھی بنگلہ دیش کی طرح آزاد ملک بن سکتا ہے۔

اسماعیل بلیدی نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ غریب ورکر تھے لیکن انہیں مولانا فضل الرحمٰن نے تین بار سینیٹر بنایا اسی لیے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے غریب ورکر اور مڈل کلاس لوگوں کو آگے لانا چاہیے کیونکہ یہی جمہوریت ہے۔

مولانا گل نصیب نے سیاست میں فوج کے کردار کی مخالفت کی اور ماضی میں فوجی ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ملک کو نقصان پہنچا اور اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔

اسی بارے میں