وحیدہ شاہ کیس اور میڈیا کی طاقت

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ذرائع ابلاغ کے دباؤ کے سبب وحیدہ شاہ کے خلاف کارروائی ہوسکی

دو ہزار پانچ میں پہلی مرتبہ جب میں آکسفورڈ یونیورسٹی انگلینڈ پڑھنےگیا تو اس وقت مجھے برطانوی ذرائع ابلاغ کی آزادی کا کچھ اندازہ نہیں تھا۔

وہاں یونیورسٹی میں بحث و مباحثوں کے دوران اکثر اوقات جنوبی ایشیاء میں صحافت پر پابندیوں اور صحافیوں کی مشکلات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جاتا تھا۔

ہمارے ایک برٹش استاد مسٹر پیڈی کوٹلر ہمیں اکثر کہا کرتے تھے کہ برطانیہ میں میڈیا اتنا آزاد ہے کہ وزیراعظم جیسی طاقتور شخصیت بھی اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو وہ بھی اس کے زد سے نہیں بچ سکتا۔

وہ کہتے تھے کہ اگر کسی وزیر یا افسر کے خلاف اخبارات میں کرپشن کے حوالے سے کوئی خبر شائع ہوتی ہے تو دوسرے دن لوگ اس کے گھر یا دفتر پہنچ کر اخبار ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ لیکن اگر وہ پھر بھی اپنے عہدے سے استعفی نہیں دیتا تو اگلے دن اس کے خلاف ایک اور خبر چھپ جاتی ہے اور اس طرح یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک مذکورہ وزیر یا افسر اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوجاتا۔

لیکن اب وحیدہ شاہ کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ سن کر مجھے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں برطانوی میڈیا کی ایک جھلک سی محسوس ہوئی۔

بظاہر اس کیس میں میڈیا ہی نے دباؤ ڈالا اور ریاستی اداروں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اس کیس کا فوری نوٹس لیں۔

وحیدہ شاہ کی طرف سے پولنگ عملے کی ایک خاتون رکن کو تھپڑ مارنے کی وڈیو گزشتہ کئی دنوں سے نجی ٹی وی چینلوں پر چلتی رہی اور اس دوران ذرائع ابلاغ میں مختلف طبقوں کی طرف سے یہ مطالبہ بھی دہرایا جاتا رہا کہ خاتون رکن کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

تاہم کچھ ٹی وی چینلوں نے اس مخصوص تھپڑ مارنے والی کلپ کو باربار دکھا کر سنسنی پیدا کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔

میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت ذرائع ابلاغ ٹرانزیشن پریڈ یا عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات نجی چینلز اپنے پروگراموں بالخصوص ٹاک شوز میں کسی کی تعریف یا مخالفت میں اتنا آگے چلے جاتے ہیں کہ اپنی حدود تک بھی پار کر لیتے ہیں اور نتیجتاً نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس کے لیے سارے میڈیا کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

پشاور یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے اسسٹنٹ پروفیسر سید عرفان اشرف کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں میڈیا نے خبروں کے انداز اور دیگر پروگراموں میں تبدیلی لانے کے لیے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں لیکن پاکستان میں ذرائع ابلاغ کی پختگی میں ابھی مزید وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کے بعض ادارے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس آزادی کا غلط استعمال بھی کر رہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ اس طرح جاری رہا تو اس کا خمیازہ پھر سب کو برداشت کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق ’ آج پاکستان میں میڈیا کو یورپ اور امریکہ جیسے ممالک کی طرح آزادی حاصل ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ میڈیا کے اداروں کو یہ آزادی ہضم نہیں ہو رہی۔‘

حالیہ دنوں میں میڈیا نے لاپتہ افراد اور بلوچستان کے مسائل کو اجاگر کرنے میں بھی مثبت کردار ادا کیا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج ملک کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے بھی ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کے اقدامات کیے جائیں۔

بعض ماہرین کا دعوی ہے کہ سینیٹ میں یہ قرار داد بھی نجی ٹی وی چینلوں پر لاپتہ افراد کے پروگرام بار بار پیش ہونے کا نتیجہ لگتا ہے۔

سید عرفان اشرف کا مزید کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ آئندہ دنوں میں پریس پر کچھ پابندیاں بھی لگ جائیں اور کچھ قوانین لاگو کرنے کی باتیں آجکل ہو بھی رہی ہیں کیونکہ بظاہر لگتا ہے کہ حکمرانوں کو یہ آزادی راس نہیں آ رہی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس قسم کی پابندیاں عملی طور پر لگ بھی جاتی ہیں تو اس کےلیے میڈیا اداروں کو غیر ذمہ داری کی بجائے اتحاد اور تدبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں