’سیاستدانوں میں 348 ملین روپے تقسیم کیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے اصغرخان، اسد درّانی اور اسلم بیگ کو جمعہ تک جواب جمع کروانے کو کہا ہے

پاکستانی سیاست، انتخابات اور حکومتوں کی تشکیل میں پاکستانی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے مشکوک کردار کو چیلنج کیے جانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران سابق بینکار یونس حبیب نے عدالت کو بتایا ہے کہ انہوں نے اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے دباؤ پر سنہ انیس سو نوے کے انتخابات سے قبل سیاستدانوں میں تقریباً پینتیس کروڑ روپے تقسیم کیے تھے۔

جمعرات کو اس معاملے پر ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان کی درخواست کی سماعت کے دوران یونس حبیب نے عدالت میں اپنا تحریری بیان جمع کرواتے ہوئے اس سکینڈل کا حصہ بننے پر معافی بھی مانگی۔

یونس حبیب کا کہنا تھا کہ اس وقت ان پر اتنا دباؤ تھا کہ اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔

اپنے بیان میں یونس حبیب نے کہا کہ سابق فوجی سربراہ جنرل اسلم بیگ نے انہیں سابق صدر غلام اسحاق خان سے ملوایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر غلام اسحاق خان ، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درّانی ، فوج کے سابق سربراہ اسلم بیگ اور سابق بیوروکریٹ روئیداد خان نے انہیں سیاستدانوں میں تقسیم کرنے کے لیے رقم جمع کرنے اور پھر اسے تقسیم کرنے کے لیے استعمال کیا۔

بی بی سی اردو کی نامہ نگار ارم عباسی کے مطابق حبیب بینک کے سابق نائب صدر نے کہا کہ سیاستدان آئی ایس آئی سے پیسے نہیں لینا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے میرا استعمال کیا اور اپنے اس عمل پر وہ معافی کے خواستگار ہیں۔

عدالت کے حکم پر اپنا بیان پڑھ کر سناتے ہوئے یونس حبیب نے بتایا کہ اسلم بیگ نے انہیں مارچ انیس سو نوے میں فون کیا اور کہا کہ صدر ان سے ملنا چاہتے ہیں۔

اس ملاقات میں انہیں کہا گیا کہ وہ پینتیس کروڑ روپے کا انتظام کریں اور ان کے انکار پر ایف آئی اے نے انہیں کراچی ایئرپورٹ پر تحویل میں لے لیا۔

بیان کے مطابق بلوچستان ہاؤس میں ہونے والی اگلی ملاقات میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور فوجی سربراہ اسلم بیگ نے انہیں اس رقم کا انتظام جائز یا ناجائز کسی بھی طریقے سے کرنے کو کہا اور اسے قومی مفاد میں کیا گیا عمل قرار دیا۔

یونس حبیب کا کہنا تھا کہ اس پر انہوں نے رقم کا انتظام کیا اور چونتیس کروڑ اسّی لاکھ کی کل رقم میں سے چودہ کروڑ مختلف سیاستدانوں میں تقسیم کیے گئے جبکہ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ جام صادق کو مہران بینک کے لائسنس کے اجراء کے لیے پندرہ کروڑ روپے دیےگئے۔

انہوں نے کہا کہ باقی رقم فوج کی فلاحی سکیموں میں لگائی گئی تھی۔

جمعرات کو سماعت کے دوران چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اصغرخان، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درّانی اور فوج کے سابق سربراہ اسلم بیگ کل تک اپنے جوابات عدالت میں جمع کرائیں۔

اسی بارے میں