بلوچستان: تین ہلکارہلاک، دس اغواء

ایف سی کا ایک اہلکار: فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے تلاش جاری ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین نے احتجاجاً دس سرکاری اہلکاروں کو اغواء کر لیا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعہ کی صبع کو فرنٹیئرکور، انسداد دہشت گردی فورس اور پولیس نے کوئٹہ سے ایک سو چالیس کلومیٹردور ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے میزئی آڈھ میں نامعلوم مسلح افراد کے خلاف آپریشن شروع کیا جس کے بعد مسلح افراد اور سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جوکئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

فائرنگ کے نتیجے میں تین مسلح افراد ہلاک اور ایف سی کے دواہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

اس واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین نے میزئی آڈھ کے مقام پر کوئٹہ چمن بین الاقوامی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ اس دوران بعض نامعلوم افراد نے کوئٹہ سے چمن جانے والے اسسٹنٹ کسٹم کلیکٹرشیرین شاہ حسین سمیت دس سرکاری اہلکاروں کو اغواء کرلیا۔

چمن سے مقامی نامہ نگار اصغراچکزئی کے مطابق ابھی تک کوئٹہ اور چمن کے درمیان سڑک بند ہے جس کے باعث نہ صرف پاکستان اور افغانسان کے درمیان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بند ہوئی ہے بلکہ عام مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے دس سرکاری مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے علاقے میں تلاش شروع کردی ہے لیکن آخری اطلاع تک کوئی مغوی بازیاب نہیں ہوسکا تھا۔

اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ اصغرحریفال کی صدارت میں ایک اجلاس اس وقت جاری ہے جس میں ایف سی اور پولیس کے حکام شرکت کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ کوئٹہ چمن قومی شاہراہ پر عرصہ دراز سے اغواء برائے تاؤان اور ڈکیتیوں کی وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے خلاف مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں نے احتجاج بھی کیاہے۔

اسی بارے میں