اسامہ کے اہلخانہ کے مکان کی تلاش میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مکان کے باہر پولیس کی دو گاڑیوں کے علاوہ پولیس کی ایلیٹ فورس کے پانچ کمانڈوز تعینات نظر آئے

یوں تو اسلام آباد میں کسی عمارت کے باہر سکیورٹی اہلکار تعینات ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیوں کہ یہاں اہم شخصیات رہائش پذیر ہیں اور ان کے گھروں کے باہر سکیورٹی تعینات ہوتی ہے۔

لیکن اسلام آباد کی ایک مرکزی شاہراہ پر واقع دو منزلہ مکان حالیہ دنوں میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ اس کے بارے میں گمان ہے کہ حکام نے اسامہ بن لادن کی تین بیواؤں اور بچوں کو مبینہ طور پر کچھ دن پہلے وہاں منتقل کیا ہے۔

یہ عمارت سفید رنگ کی ہے جس کے سامنے والے حصے پر سرخ رنگ کا چھجا ہے اور اس کی بناوٹ ایسی ہے کہ یہ پانچ کمروں پر مشتمل ہو سکتا ہے۔

اس مکان کے باہر پولیس کی دو گاڑیوں کے علاوہ پولیس کی ایلیٹ فورس کے پانچ کمانڈوز تعینات نظر آئے جو خود کار اسلحہ اور پستولوں سے لیس ہیں۔

اس کے علاوہ اسلام آباد پولیس کے کچھ اہلکار بھی نظر آئے جن میں دو اس مکان کے دروازے کے اندر اور دو اہلکار مکان کی چھت پر مسلسل نگرانی کرتے رہتے ہیں جبکہ کچھ فاصلے پر ایک بکتر بند گاڑی کھڑی ہے جس میں دو پولیس اہلکار بیٹھے ہوئے نظر آئے۔

جمعہ کو جب میں وہاں گیا تھا تو تین چار خواتین پولیس اہلکار بھی اس مکان کے باہر موجود تھیں لیکن سنیچر کو وہ نظر نہیں آئیں۔

دو دن اس عمارت کے باہر کئی گھنٹے گزارنے کے باوجود کسی بھی شخص کو مکان کے اندر یا باہر آتے جاتے نہیں دیکھا البتہ ایک مرحلے پر ہوٹل کے ایک بیرے کو وہاں سے نکلتے دیکھا۔

اسامہ بن لادن کی بیواؤں اور ان کے بچوں کا اس گھر میں منتقلی کا تاثر اس لیے پختہ ہوتا جا رہا ہے کیوں کہ چند دن پہلے تک اس مکان کے باہر کوئی سکیورٹی نہیں تھی لیکن اچانک ایک ہفتے پہلے وہاں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے۔

اس مکان کے قریب مقیم ایک شخص نے بتایا کہ پہلے دن دوپہر کے وقت اچانک چار پانچ بکتر بند گاڑیاں اور اتنی ہی تعداد میں پولیس گاڑیاں یہاں آئیں اور پولیس کی بھی بھاری تعداد تھی۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ بعد میں اکثر گاڑیاں وہاں سے ہٹا دی گئیں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد میں بھی کمی گئی۔ یہیں پر ایک اور شخص سے ملاقات ہوئی جو قریب ہی واقع ایک گیسٹ ہاوس میں ملازمت کرتا ہے۔

انھوں نے بتایا ’پہلے یہاں پولیس نہیں تھی، اب تقریباً پانچ دن ہوگئے ہیں ادھر آئی ہے، چار پانچ گاڑیاں یہاں کھڑی ہیں، میں نے پوچھا کسی سے تو کہتے ہیں کہ کسی بڑے آدمی نے یہ کوٹھی خریدی ہے اس لیے پولیس ہے، چوبیس گھنٹے یہاں پولیس ہوتی ہے‘۔

اس شخص نے کہا کہ انھوں نے بھی کسی کو اس گھر اندر یا باہر جاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

سینیچر کو جب میں اس تجسس کو توڑنے کے لیے ساتھی کیمرہ مین وجدان کے ساتھ دوبارہ وہاں پہنچا اور ہم اس مکان کی طرف بڑھے تو ایلیٹ فورس کے ایک اہلکار نے ہمیں خبردار کیا ’ کیمرہ نیچے کرو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چند دن پہلے تک اس مکان کے باہر کوئی سکیورٹی نہیں تھی

ہم نے کیمرہ نیچے کیا اور آگے بڑھے اور ایک ایلیٹ فورس کے اہلکار سے براہ راست یہ سوال پوچھ لیا کہ کیا اسامہ بن لادن کی بیواؤں اور بچوں سے بات ہوسکتی ہے تو انھوں نے برجستہ جواب دیا ’بہت مشکل ہے۔‘

اسی اثناء میں ایلیٹ فورس کے اور اہلکار وہاں پہنچ گئے۔ ایک بولا ’سر ہمیں اجازت نہیں ہے کسی قسم کی بات کرنے کی‘ جبکہ دوسرے نے کہا ’اس بارے میں ہمیں بھی پتہ نہیں ہے کہ وہ یہاں ہیں بھی کہ نہیں‘۔

ایک اور اہلکار نے کہا ’یہ اطلاع آپ کو کس نے دی ہے، آپ کی اطلاع غلط ہے، ہم تو صرف اس مقصد کے لیے کھڑے ہیں کہ یہاں پر جتنے بھی لوگ ہیں ان کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے، لازمی تو نہیں ہم ان کے لیے یہاں ہوں، یہاں پر کوئی نہیں ہے، یہ ایک گھر ہے، یہاں لوگ رہتے ہیں‘۔

پولیس اہلکاروں کے اس رد عمل کی وجہ سے یہ تاثر مزید گہرا ہوا کہ یہی وہ مکان ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بن لادن کی بیواؤں اور بچوں کو گذشتہ تین دن کے دوران اسلام آباد میں ایک مکان میں منتقل کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا‘ خواتین کے احترام کے پیش نظر ان کو ایک مناسب گھر میں رکھا گیا ہے جس کو سب جیل قرار دیا گیا ہے۔ پانچ کمروں پر مشتمل گھر لے کے ان بچوں کو ویسے رکھا گیا ہے جیسے وہ اپنے گھر میں رہتے ہیں، ہر طرح سے ان کی بہتری کا، ان کے رہنے کا، کھانے کا انتظام بالکل گھر کی طرح کیا گیا ہے‘۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی تین بیواؤں کے خلاف پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے اور رہائش رکھنے کے علاوہ دھوکہ دہی اور جعل سازی کے الزامات کے تحت باقاعدہ طور پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

پچھلے سال دو مئی کو ایبٹ آباد شہر میں امریکی کارروائی کے نتیجے میں اسامہ بن لادن کو ہلاکت کے بعد پاکستانی حکام نے اسامہ بن لادن کی تین بیواؤں اور تیرہ بچوں کو اپنے تحویل میں لیا تھا لیکن اب دس ماہ بعد ان کی بیواؤں کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں