بلوچستان پولیو کیسز میں سرفہرست

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں پیر سے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم شروع کی گئی ہے

پاکستان میں گزشتہ سال پولیو سے ایک سو چوراسی بچے مغذور ہوئے جن میں سے تہتر کا تعلق صوبہ بلوچستان سے تھا اور اس طرح پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سر فہرست رہا جہاں پولیو کا وائرس موجود ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگارایوب ترین کا کہنا ہے کہ محکمۂ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے جہاں پولیو کیسز کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے اور سال دو ہزار دس کے مقابلے میں سال دو ہزار گیارہ کے دوران جنوری تا دسمبر تک ملک بھر میں ایک سو چوراسی پولیو کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سب سے زیادہ تعداد بلوچستان کی ہے۔

بلوچستان میں سال دو ہزار گیارہ کے دوران تہتر کیسز سامنے آئے۔ محکمہ صحت کے جاری کردہ اعدار و شمار کے مطابق ملک کی آبادی کے حوالے سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سال بھر کے دوران صرف سات کیس، سندھ میں اکتیس، صوبہ خیبر پختونخوا میں اکیس، شمالی علاقہ جات میں باؤن جبکہ گلگت بلتستان میں ایک اور وفاقی دارالحکومت میں اس سال کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

اس کے مقابلے میں ہمسایہ ملک ہندوستان میں صرف ایک پولیو کیس سامنے آیا اور گذشہ سال دسمبر میں عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے انڈیا کو پولیو فری ملک قرار دیدیا تھا۔

جبکہ افغانستان میں 63 اور نائیجریا میں46کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ کل 581کیس سامنے آئے اور سال 2010 میں پاکستان، انڈیا اورافغانستان سمیت دنیا بھر میں 975پولیو کیس سامنے آئے تھے۔

محکمہ صحت کے مطابق بلوچستان جو تہتر کیس کے ساتھ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھرمیں سال دو ہزار گیارہ کے دوران سرفہرست رہا۔

پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے ماہرین کے مطابق بلوچستان میں پولیو سے بچاو کے قطروں کے حوالے سے بعض علاقوں میں فرسودہ باتیں بھی ہیں اور قبائلی علاقوں میں بسنے والے بیشتر والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا گناہ سمجھتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ پولیو کے قطرے ایک نجس جانور کی چربی سے تیار کیے گئے ہیں اور ایک سازش کے تحت امریکہ اور اسرائیل کے پالیسی ساز اس کو مسلمانوں کے بچوں کو پلا کر انہیں اسلام سے عاری بنانا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جبکہ بعض والدین کا خیال ہے کہ مبینہ طور پر یہ قطرے پلانے سے بچے مستقبل میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

مگر عالمی تحقیق نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ یہ تمام باتیں محض فرسودہ ذہنیت کی عکاس ہیں۔ ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ تمام ڈاکٹر، اعلیٰ اہلکار، حکمران، بڑے بڑے علماء کرام اسلامی سکالرز، اساتذہ، صحافی، سماجی و قبائلی شخصیات اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو کی ویکسین پلاتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق پولیو کا ایک کیس جس علاقے میں رپورٹ ہو جائے وہاں مزید دو سو بچے اس وائرس کی زد میں آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں 2011کے دوران تہتر معصوم بچے زندگی بھر کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں محکمہ صحت نے اس عزم ظاہر کیا ہے کہ سال 2012 بلوچستان اور پاکستان میں پولیو سے خاتمے کا سال ہو گا جس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ٹھوس منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور عالمی ادارہ صحت ڈبلیوایچ او ان کی مدد کر رہی ہے۔

اسی بارے میں