پاکستانی عدالتی کمیشن کی بھارت روانگی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کا عدالتی کمیشن حملوں کے دوران واحد زندہ بچ جانے والے حملہ آور اجمل عامر قصاب کا بیان بھی ریکارڈ کرے گا: سرکاری وکیل

بھارت کے شہر ممبئی میں نومبر دو ہزار آٹھ میں ہونے والے حملوں کی تحقیقات کے لیے پاکستان کا عدالتی کمیشن بدھ کو بھارت روانہ ہو گیا۔

عدالتی کمیشن میں اہم ملزم ذکی الرحمان لکھوی کے وکیل خواجہ حارث سمیت دیگر ملزمان کے وکلاء ریاض اکرم چیمہ، اعصام بن حارث، فخر حیات، سرکاری وکیل چودھری ذوالفقار علی اور محمد اظہر شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق اس کمیشن میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر آزاد خان اور راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے حکام بھی شامل ہیں۔

سرکاری وکیل چودھری ذوالفقار علی نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کمیشن ممبئی حملوں کے دوران واحد زندہ بچ جانے والے حملہ آور اجمل عامر قصاب کا بیان ریکارڈ کرنے والے جج آر وی ساونت واگھلے، معاملے کے تحقیقاتی افسر رمیش مہالے اور دو ڈاکٹروں کے بیان بھی ریکارڈ کرے گا، جنہوں نے ہلاک ہونے والے تمام حملہ آوروں کا پوسٹ مارٹرم کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا عدالتی کمیشن حملوں کے دوران واحد زندہ بچ جانے والے حملہ آور اجمل عامر قصاب کا بیان بھی ریکارڈ کرے گا۔

ان کے مطابق بیان ریکارڈ کرنے کے بعد کمیشن اکیس مارچ کو واپس پاکستان پہنچے گا اور بعد میں یہ بیانات راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں لشکرِ طیبہ کے سینیئر رہنماء ذکی الرحمان لکھوی سمیت سات ملزمان کے خلاف ممبئی حملوں کا مقدمہ چل رہا ہے۔

گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے وزراء داخلہ کے درمیان ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں ممبئی حملوں کی تحقیقات کرنے والا عدالتی کمیشن بھارت کا دورہ کرے گا اور وہاں بھارتی حکام سے بیان ریکارڈ کرے گا۔

دونوں ممالک نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا اور اسے حملوں کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں