’خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اٹھایا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت دی کہ وہ انیس مارچ تک عمر محمود ولی خان کو عدالت میں پیش کریں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے لیے کھانے پینے کا انتظام کرنے والے ایک نوجوان لاپتہ ہوگئے ہیں۔

پارلیمینٹ کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم احتجاجی کیمپ کو راشن فراہم کرنے کا کام سرانجام دینے والے چوبیس سالہ عمر محمود ولی خان دس مارچ سے لاپتہ ہیں۔

کینیڈا سے تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان کے والد محمود احمد خان نے الزام لگایا ہے کہ عمر کو پولیس کی وردی اور سادہ لباس میں ملبوس خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اٹھایا ہے۔

عمر محمود ولی خان کی گمشیدگی کا معاملہ جمعہ کو سپریم کورٹ میں اس وقت سامنے آیا جب چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری کی سربراہی میں اڈیالہ جیل کے باہر سے اُٹھائے گئے گیارہ افراد کے مقدمات کی سماعت جاری تھی۔

سماعت کے دوران اڈیالہ جیل کے باہر سے اُٹھائے گئے گیارہ افراد کے وکیل طارق اسد نقوی نے عمر محمود ولی خان کے والد کی پٹیشن عدالت میں پیش کی۔

سماعت کے بعد طارق اسد نقوی نے بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی کو بتایا کہ ’دس مارچ کی دوپہر اسلام آباد میں مارگلہ ٹاؤن میں زیر تعمیر اپنے گھر سے عمر محمود ولی خان اپنے بھائی کے ہمراہ کھانا لینے نکلےتھے کہ سفید گاڑی میں سوار دو افراد نے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر انہیں روکا اور ان سمیت گاڑی کی تلاشی لی جس کے بعد وہ خوف زدہ حالت میں گھر واپس لوٹے۔‘

اس کے بعد کی صورت حال بتاتے ہوئےطارق اسد نقوی کا کہنا تھا ’والدین جب معاملے کی چھان بین کے لیے بچوں سمیت گھر سے باہر نکلے تو کالے شیشوں والی سفید اور کالی ڈبل کیبن اور ایک مہران گاڑی میں سوار نامعلوم افراد نے انہیں پھر سے روکا اور تلاشی لینے کے بعد پھر اصرار کیا کہ انہیں عمر محمود ولی خان کی تلاشی دوبارہ لینی ہے۔‘

طارق اسد نقوی نے بتایا کہ ’اسی چکر میں نامعلوم افراد عمر محمود ولی خان کو مہران گاڑی تک لے گئے اورگاڑی کے اندر بیھٹنے کا حکم دیا جس پر والد نےپوچھا کہ میرے بیٹے پر الزام کیا ہے تو نامعلوم افراد نے کہا کہ وہ سی آئی ڈی اور پولیس سے ہیں۔‘

طارق اسد نقوی کے مطابق انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ’والد نے اصرار کیا کہ وہ بھی بیٹے کے ساتھ جائیں گے اور وہ گاڑی میں بیٹھ گئے تاہم خود کو سی آئی ڈی اور پولیس کہنے والے افراد نے انہیں دھکے مار کر گاڑی سے باہر پھینک دیا اور چل دیے۔‘

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’اپنے بیٹے کو لے جانے والی گاڑیوں کا پیچھا کرنے پر گاڑی میں سوار افراد نے نیچے اتر کر محمود احمد خان کو دھمکی دی کہ اگر وہ پیچھا کریں گے تو نقصان اٹھائیں گے۔‘

اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ ’کس طرح بغیر بتائے لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے یہ ہو کیا رہا ہے۔‘

عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت دی کہ وہ انیس مارچ تک عمر محمود ولی خان کو عدالت میں پیش کریں۔

دوسری جانب صوبہ خیبرپختنوخوا کے چیف سکریڑی غلام دستگیر خان نے زیرِ حراست سات افراد کی صحت سے متعلق اپنا تحریری جواب آج داخل کرایا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت میں عدالت نے خیبر پختونخوا کے چیف سیکریڑی کو حکم دیا تھا کہ سات افراد کی صحت سے متعلق طبی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

خیبر پختونخوا کے چیف سیکریڑی نے رپورٹ عدالت کے سامنے پڑھتے ہوئے بتایا کہ زیرحراست چار افراد کی صحت پہلے سے بہت بہتر ہے جبکہ تین کی ابھی بھی صحت خراب ہے۔ جس پر عدالت نے حکم دیا کہ صحت یاب ہونے والے چار افراد کو کوہاٹ کے حراستی مرکز میں منتقل کیا جائے جہاں انہیں خاندان والوں سے ملنے کی اجازت دی جائے جبکہ باقی تین افراد کی صحت یابی تک انہیں طبی مرکز میں رکھا جائے۔

عدالت نے آئندہ سماعت نو اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں