خیبر ایجنسی:سڑک کنارے سےچودہ لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اطلاعات کے مطابق ان لاشوں میں پشاور کے سابقہ ناظم اعظم آفریدی کے چچاذاد بھائی کی لاش بھی شامل ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سڑک کے کنارے ایک میدانی علاقے سے چودہ لاشیں ملی ہیں جن میں پشاور کے سابق ناظم اعظم آفریدی کے چچاذاد بھائی کی لاش بھی شامل ہے۔

خیبر ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل باڑہ میں شہر سے کوئی سات کلومیٹر دور مغرب کی جانب سپین قبر کے علاقے شیخ آباد میں سڑک کے کنارے ایک میدانی علاقے سے چودہ لاشیں ملی ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ ان افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا اور ان کی لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے۔ تاہم ان میں پشاور کے سابق ناظم اعظم خان آفریدی کے چچاذاد بھائی محمود ملک کی لاش بھی شامل ہے۔

سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی، بریگیڈئیر سعد کی بی بی سی گفتگو

مقامی لوگوں نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ لاشیں مقامی افراد کی ہیں جو چند دن پہلے باڑہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لاشوں سے معمولی سی بدبو آ رہی ہے اور ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ ان کو ایک دن پہلے ہلاک کیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق یہ ابھی معلوم نہیں کیا جا سکا کہ ان کو کس نے اغواء کیا تھا البتہ انتظامیہ کو شک ہے کہ مُسلح شدت پسند اس واقعے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق جس جگہ یہ لاشیں ملی ہیں یہ جگہ لشکر اسلام کے آمیر منگل باغ کے رہائش گاہ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور جن لوگوں کی لاشیں ملی ہیں یہ لوگ منگل باغ کے حامی لوگ بتائے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس واقعے سے ایک دن پہلے باڑہ بازار کے قریب تین شدت پسندوں کی لاشیں ملی تھیں جن کو مقامی لوگوں کے مطابق جلوزئی متاثرین کیمپ سے سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے بعد گرفتار کیا تھا۔ تاہم انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی تھی۔

یاد رہے کہ خیبر ایجنسی اور دوسرے قبائلی علاقوں میں کافی عرصے سے اغواء کیے گئے افراد کی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک سینکڑوں لوگوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔

اسی بارے میں