’صدر کو غیرملکی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا غلط ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیرِ اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے توہینِ عدالت کے مقدمے میں اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ان کے خیال میں غیر ملکی مجسٹریٹ کے سامنے صدرِ پاکستان کو پیش نہیں کرنا چاہیے۔

وزیر اعظم کے وکیل نے ان کا تحریری جواب سپریم کورٹ میں داخل کرایا۔

سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم کے وکیل نے چوبیس صفحات پر مشتمل جواب جمع کرایا ہے۔

یاد رہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے حکم کے مطابق توہینِ عدالت کے مقدمے میں انیس مارچ تک وزیرِ اعظم کو تحریری بیان جمع کرانا تھا۔

توہینِ عدالت مقدمے کی اگلی سماعت اکیس مارچ کو ہو گی۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے تحریری جواب میں موقف اختیار کیا ہے کہ آٹھ مارچ کا عدالتی حکم یکطرفہ تھا اس لیے اس کو واپس لیا جائے۔

پاکستان کے صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کو غیر ملکی ججوں کے سامنے نہیں پھینکا جاسکتا۔

یاد رہے کہ پندرہ مارچ کو بہاولپور میں اسلامیہ یونیوورسٹی کے جلسۂ تقسیم اسناد اور بعد میں میلسی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ وہ سوئس حکام کو خط نہیں لکھیں گے، پہلے بھی کئی برس جیل کاٹی ہے مزید چھ مہینے جیل کاٹ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سوئس حکام کو خط لکھ کر آئین کی خلاف ورزی اور سزائے موت کا سامنا کرنے سے بہتر ہے کہ وہ خط نہ لکھ کر توہین عدالت کی سزا کاٹ لیں۔

وزیر اعظم نے مزید کہا تھا کہ وہ کوئی غیر آئینی کام نہیں کرنا چاہتے لیکن انہیں کہا جا رہا ہے کہ وہ کسی سے مشورہ کیے بغیر خط لکھ دیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ سابق صدر پرویز مشرف کے قومی مفاہمتی آرڈیننس یا این آر او کو کالعدم قرار دے چکی ہے اور اُس فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمے میں چاہتی ہے کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ کی عدالت میں، این آر او کے تحت ختم کیے گئے بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے پاکستانی حکومت سوئس حکام کو خط لکھے۔

این آر او پر عمل درآمد کے مقدمے کی گزشتہ سماعت کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے اٹارنی جنرل کے ذریعے وزیرِاعظم کو حکم دیا کہ وہ سوئس حکام کو خط لکھیں اور ہدایت کی اٹارنی جنرل اکیس مارچ کو بتائیں کہ خط لکھا گیا یا نہیں۔

اسی بارے میں