خیبر ایجنسی: مزید آٹھ ہزار افراد بےگھر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption باڑہ سب ڈویژن میں دو تین سال سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں چند دنوں سے تیزی آرہی ہے جس کی وجہ سے مزید آٹھ ہزار افراد بےگھر ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

پشاور میں اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی آر‘ کے ترجمان تیمور احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف جاری کارروائیوں کے باعث مزید افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق تیمور احمد نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران آٹھ ہزار کے قریب بے گھر خاندانوں نےجلوزئی مہاجر کیمپ میں پناہ لی ہوئی ہے ۔ ان متاثرین میں آکاخیل، قمبر خیل، ستوری خیل، سپاہ اور ملک دین خیل قبیلوں کے افراد شامل ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ باڑہ سب ڈویژن کے علاقے سے پچھلے تین ماہ کے دوران سترہ ہزار افراد سے زائد نے نقل مکانی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تازہ بےگھر ہونے والے افراد کی رجسٹریشن کا عمل شروع کردیا گیا ہے جبکہ یو این ایچ سی آر کی طرف سے متاثرہ خاندانوں کو ٹینٹ اور خوراک بھی فراہم کی جا رہی ہے ۔

تاہم دوسری طرف مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ باڑہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر قبائلی خاندان مہاجر کیمپوں میں جانے کے بجائے کرائے کے مکانات میں رہائش پزیر ہیں۔

خیال رہے کہ باڑہ سب ڈویژن میں دو تین سال سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم حالیہ آپریشن باڑہ کے کچھ علاقوں میں شروع کیا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں تیزی آئی ہے جبکہ اس دوران سکیورٹی فورسز پر حملوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اتوار کو باڑہ کے علاقے سپین قبر میں سڑک کے کنارے چودہ افراد کی لاشیں ملی تھیں جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مرنے والے افراد کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے حامی تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ واقعات ایسے وقت ہورہے ہیں جب باڑہ ہی کے علاقوں میں دو کالعدم تنظیموں لشکر اسلام اور تحریک طالبان پاکستان کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک دونوں جانب سے درجنوں شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں