جاوید ہاشمی تحریکِ انصاف کے صدر منتخب

مخدوم جاوید ہاشمی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مخدوم جاوید ہاشمی جنرل پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ نون کے پارلیمانی لیڈر بھی رہے ہیں

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مخدوم جاوید ہاشمی کو پارٹی کا صدر بنا دیا ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہیں صدر بنانے کا فیصلہ پارٹی کی مجلس عاملہ نے کیا ہے۔اس موقع پر مخدوم جاوید ہاشمی بھی موجود تھے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کےمطابق مخدوم جاوید ہاشمی شریف بردران کی جلاوطنی کے دوران پاکستان میں مسلم لیگ نون کے بھی صدر رہے ہیں لیکن نواز شریف کی واپسی کے بعد ان سے یہ عہدہ واپس لے لیا گیا تھا۔

مخدوم جاوید ہاشمی جنرل پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ نون کے پارلیمانی لیڈر بھی رہے ہیں جنرل پرویزمشرف کے دور میں ہی انہوں نے بغاوت کے الزام میں جیل کاٹی تھی۔

نواز شریف اور شہباز شریف کی واپسی اور نئی اسمبلی کے انتخاب کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ انہیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنا دیا جائے گا لیکن ان کی جگہ چودھری نثار علی خان کو یہ عہدہ دیا گیا۔

جاوید ہاشمی کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ یہ بات جاوید ہاشمی کے لیے دکھ کا باعث بنی تھی لیکن وہ پارٹی سے وفادار رہے۔

جاوید ہاشمی پارٹی میں رہ کر کارکنوں کی اہمیت پر زور ڈالتے رہے اور انہوں نے کئی مرتبہ نواز شریف کی پالیسیوں سے اختلاف کیا۔

دسمبر سنہ دو ہزار گیارہ میں جاوید ہاشمی مسلم لیگ نون چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوگئے لیکن انہوں نے فوری طور پر کوئی عہدہ قبول نہیں کیا تھا۔

پیر کو صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جاوید ہاشمی نے کہا کہ عمران خان کرپشن کے خلاف جنگ کر رہے ہیں اور وہ جمہوریت کے استحکام کی اس جنگ میں ان کے شانہ بشانہ ہیں۔

اس پریس کانفرنس میں پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ نوابزادہ منصور علی خان نے اپنی پارٹی تحریک انصاف میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔

تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس انضمام کے لیے جاوید ہاشمی نے خاص کردار ادا کیا تھا۔جاوید ہاشمی نے پی ڈی پی کے کارکنوں کو تحریک انصاف میں خوش آمدید کہا۔

واضح رہے کہ جاوید ہاشمی سے چند روز پہلے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے انہی کے شہر کے مخدوم شاہ محمود قریشی کو پارٹی کا وائس چئیرمین بنا دیا گیا تھا۔

تحریک انصاف کے پرانے کارکن اور نوجوان حامی پارٹی میں پرانے سیاستدانوں کی شمولیت کے خلاف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پرانے سیاستدانوں کے ذریعے تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بارہا پارٹی اجلاسوں میں انہیں یقین دلاچکے ہیں کہ انتخابی ٹکٹوں کے اجراء کے موقع پر صرف میرٹ کو مد نظر رکھا جائے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اسی دباؤ کی وجہ سے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے تین دیگر سینیئر سیاستدانوں سابق گورنرمیاں محمد اظہر، سابق وزرائے خارجہ خورشید محمود قصوری اور سردار آصف احمد علی کو تاحال کوئی عہدہ نہیں دیا گیا البتہ جاوید ہاشمی کے خلاف بظاہر پارٹی میں کوئی خاص ناراضگی نہیں پائی جاتی تھی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ انیس سو اڑتالیس میں پنجاب کے شہر ملتان میں پیدا ہونے والے جاوید ہاشمی نے فلسفے اور پولیٹکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کررکھی ہے وہ پانچ بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں اور انہوں نے قومی سطح پر سیاست کا آغاز سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے دور میں کیا تھا اور وہ امور نوجوانان کے وزیر مملکت بھی رہے۔