حراستوں کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

پاکستان میں دہشتگردی کے شبہے میں حالیہ برسوں میں بہت سے افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان حراستوں کی قانونی حیثیت ایک بڑا سوال بنی ہوئی ہے۔

قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ شہریوں کی غیرقانونی گرفتاریوں میں ملوث خفیہ فوجی ایجنسیوں کی نگرانی یا احتساب کے لیے قانون موجود نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ اس مسئلے کے حل کے لیے سیاسی عزم کا بھی فقدان ہے۔

پاکستان میں لاپتہ افراد اور جن کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں ان کے اہل خانہ کی جانب سے انٹیلیجنس ایجنسیوں کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے کے بعد جہاں سیاسی حلقوں میں ایجنسیوں کے کردار پر شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں وہیں میڈیا میں بھی ماضی کے برعکس کھل کر ان اداروں کے کردار پر تنقید کی جا رہی ہے۔

خود پاکستانی فوج کے قانونی شعبہ جیگ برانچ کے سابق سربراہ کرنل محمد اکرم کا کہنا ہےکہ جس طرح ایجنسیاں شہریوں کو اٹھا رہی ہیں یہ قانون اور آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’آئی ایس آئی کے پاس یہ قانونی اختیار نہیں ہے کہ وہ شہریوں کو حراست میں لے ماسوئے آرمی ایکٹ 1952 کی ان دو شقوں کےجن کے تحت کوئی شہری اگر بغاوت یا پھر دفاعی اداروں کے خلاف جاسوسی کرے۔‘

ایک طرف فوج کی جیگ برانچ کے سابق سربراہ کا یہ کہنا تو دوسری جانب بعض قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ انٹلیجنس ایجنسیوں کے ضابطہ کے لیے ایک مؤثر قانونی ڈھانچے کی ضرورت ہے جس کےلیے سیاسی عزم ضروری ہے۔

قانونی ماہراحمر بلال صوفی نے بی بی سی سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہے لیکن ریاستی اداروں کے پاس انسدادِ دہشت پالیسی کے متعلق دستاویز ہی نہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’یہ نہ صرف حکومت کی بلکہ سکیورٹی اداروں کی بھی کوتاہی ہے کہ وہ حکومت پر اس سلسلے میں مؤثر قانون سازی کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالتے۔‘

انہوں نے کہا ایک طرف انٹیلیجنس ادارے سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کی بہت خدمت کر رہے ہیں اور دوسری طرف مسنگ پرسن کا طعنہ ہے اور شہریوں کے لاپتہ ہونے کی شرمناک مثالیں موجود ہیں تو اس غیر قانونی طریقہ کار سے اب انہیں باہر آنا پڑے گا‘۔

پشاور ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کا مقدمہ لڑٹنے والے وکیل آصف جان کہتے ہیں کہ بعض کیسیز میں سکیورٹی ایجنسیاں اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے شہریوں کو نہ صرف گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیتی ہیں بلکہ خاندان سمیت باہر کی دنیا سےان کا تعلق ختم کر دیتی ہیں جوکہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

آصف جان نے اس پر اپنے ہی ایک کیس کی مثال دی اور کہا ’میرے ایک مؤکل تھے جن کے بھائی کو انٹیلیجنس ایجنسیوں نے بغیر جرم بتائے تین برس غیرقانونی حراست میں رکھا اور جب مسئلہ منظر عام پر آیا تو معافی مانگتے ہوئے میرے مؤکل کو رہا کر دیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’تین برس تک کوئی اطلاع نہ ملنے پر ان کے اہل خانہ ان کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کر چکے تھے۔‘

مبصرین کے مطابق شہریوں کی غیرقانونی گرفتاریوں کا مسئلہ ووٹوں کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہوا دکھائی دے رہا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ماضی میں پاکستانی فوج کے قریب سمجھی جانے والی جماعت مسلم لیگ ن بھی عوامی ریلیوں کے دوران اس مسئلے کو اجاگر کر رہی ہے۔

انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر سے مبینہ غیرقانونی طور پر اٹھائے گئے گیارہ افراد کے مقدمہ کی سپریم کورٹ میں سماعت، ملک بھر میں جبری گمشدگیاں اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے بعد انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کردار اور ان کی جوابدہی کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی پر بحث نے تو زور پکڑ لیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت پارلیمنٹ میں ’ریاست کے اندر ریاست نہ قائم کرنے‘ کے نعرے تو لگاتی ہے لیکن کیا پانچ سالہ مدت پوری ہونے سے پہلے وہ اس مسئلےکا قانونی حل نکال پائے گی؟

اسی بارے میں