پشاور: ٹارگٹ کلنگ میں دو اہلکار ہلاک

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس اہلکاروں کی’ٹارگٹ کلنگ‘ کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو رہا ہے اور تازہ حملے میں سب انسپکٹر سمیت دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کی شام پشاور شہر کے علاقے رنگ روڈ پر پیش آیا۔ پشاور کے ایس ایس پی آپریشنز طاہر ایوب نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ دس سے بارہ کلوگرام باوردی مواد ایک آٹو رکشہ کے اندر بھر دیا گیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق طاہر ایوب نے کہا کہ جونہی پولیس کی گاڑی آٹو رکشہ کے قریب رکی تو اس دوران ریموٹ کنٹرول سے زوردار دھماکہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں سب انسپکٹر سمیت دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں پولیس کی موبائل گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملے میں کالعدم شدت پسند تنظمیں ملوث ہوسکتی ہیں۔

خیال رہے کہ پشاور میں پچھلے چند ہفتوں سے پولیس اہلکاورں کی ’ٹارگٹ کلنگ’ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس سے چند روز قبل رنگ روڈ پر ہی ایس پی رورل کالام خان کی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ ہلاک ہوگئے تھے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل گروپ نے قبول کر لی تھی۔

تنظیم کے ترجمان نے بی بی سی کو فون کر کے الزام لگایا تھا کہ ایس پی کالام خان نے ان کے ایک ساتھی کے مکان پر چھاپہ مارا تھا۔ ترجمان کے مطابق یہ حملہ طالبان کے ’شعبہ انتقام‘ کی طرف سے کیا گیا ہے۔

ان واقعات سے چند ہفتے قبل پشاور میں پولیس تھانے کو بھی خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں چند اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں