لگتا ہے کہ عدالت نے پہلے سے ذہن بنا رکھا: اعتزاز احسن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں اعتزاز احسن نے سماعت کے دوران بنچ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ مقدمہ ’مس ٹرائل‘ کی جانب بڑھ رہا ہے۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سات رکنی بینچ کے سامنے وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے سے پہلے ہونے والی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے چھ آپشنز پیش کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن بنچ نے سب سے سخت آپشنر چنتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی نے بتایا کہ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ حکم نامے کے آخری آپشن کو استعمال نہیں کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ پارلیمنٹ این ار او پر عملدرآمد کے مسئلے سے نمٹے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت نے پہلے سے ہی اپنا ذہن بنا رکھا ہے۔

اعتزاز احسن نے عدالت سے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد قانون میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔’آئین کے آرٹیکل ٹین اے کے مطابق اب فیئر ٹرائل ہر شحص کا بنیادی حق بن گیا ہے۔‘

جسٹس ناصر الملک نے کہا ’آئین میں تو پہلے سے یہی لکھا ہے۔‘ اس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ پہلے فیئر ٹرائل کا حق اس طرح نہیں تھا جسے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد حاصل ہوا ہے۔

اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کبھی نہیں کہا کہ وہ عدالت کے حکم پر عمل نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ لیکن صدر آصف علی زرداری ملک کے سربراہ ہیں اس لیے فی الوقت ان کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہیں لکھا جا سکتا۔

عدالت نے سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

بدھ کی صبح وزیرِ اعظم کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران جج صاحبان اور اعتزاز احسن کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔

ایک موقع پر جج صاحبان نے واضح کیا کہ وہ قانون کے مطابق غیر جانبدارانہ کارروائی کر رہے ہیں۔ بنچ میں شامل جسٹس محمد اطہر سعید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’چوہدری صاحب آپ کو یہ نہیں کہنا چاہیے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ہم یہاں غیر جانبدار ذہن کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں‘۔

اس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا ’مجھے یہ بالکل معلوم نہیں ہے لیکن امید ہے‘۔

انہوں نے کہا ’آئین کی شق دس الف کے مطابق میں یہ ثابت کروں گا کہ یہ منصفانہ ٹرائل نہیں ہے ۔”

اس پر جسٹس اعجاز احمد نے کہا کہ ’یہ ٹھیک ہے کہ بہت سے ایسے ثبوت ہیں جو اس مقدمہ میں شامل ہو سکتے تھے‘۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ’بس میرے لیے آپ کی یہی آبزرویشن کافی ہے کہ ثبوت نامکمل ہیں۔‘

جسٹس اعجاز احمد نے جواب میں کہا ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ثبوت مکمل نہیں ہیں۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ مزید شواہد اس مقدمے میں سامنے آسکتے تھے‘۔

اسی بارے میں