امریکی سفیر کا دورۂ پشاور یونیورسٹی منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کو امریکہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرنا چاہیے: کیمرون منٹر

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے دورے پر آئے ہوئے پاکستان میں امریکہ کے سفیر کیمرون منٹر نے بعض سکیورٹی وجوہات کے باعث پشاور یونیورسٹی کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

امریکی سفیر نے بدھ کی صبح پشاور یونیورسٹی میں شعبہ پولٹیکل سائنس کی جانب سے منعقدہ ایک سمینار میں شرکت کرنا تھی۔ پشاور یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ سمینار ’سلالہ چیک پوسٹ پر حملے اور پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی‘ کے موضوع پر منعقد کیا جا رہا تھا۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ بعض ذرائع کے مطابق پشاور یونیورسٹی میں طلباء کی ایک تنظیم کی طرف سے امریکی سفیر کے گھیراؤ کی دھمکی کے باعث ان کا دورہ منسوخ کیا گیا ہے۔

اسلامی جمعیت طلباء نےبدھ کی صبح ایک احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا جس میں امریکہ کی طرف سے قبائلی علاقوں میں جاری ڈرون اور سلالہ چیک پوسٹ پر حملوں کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔ مظاہرین نے دھمکی دی کہ امریکی سفیر کے یونیورسٹی کیمپس آنے کی صورت میں ان کا گھیراؤ کیا جائے گا۔

منگل کی شام بھی جمعیت کی طرف سے یونیورسٹی کیمپس میں احتجاجی مظاہرہ منعقد کیاگیا تھا جس میں امریکی سفیر کے یونیورسٹی کی حدود میں داخل ہونے پر ان کے گھیراؤ کی دھمکی دی گئی تھی۔

دریں اثناء امریکی سفیر کمیرون منٹر نے پشاور میں تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ ایک غلطی تھی جس پر انہیں افسوس ہے جبکہ مستقبل میں ایسے حملے نہیں ہونے چاہیئں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کا احترام کرتا ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ اس سلسلے میں فیصلے کا بھی انتظار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات باہمی تعاون اور احترام کی بنیاد پر قائم ہونے چاہیئں۔

کیمرون منٹر نے مزید کہا کہ پاکستان کو امریکہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرنا چاہیے۔

امریکی سفیر نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تیس ہزار شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے قربانیوں پر ان کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پشاور کو ایک بار پھر پھولوں کا شہر بنانے کےلیے صوبائی حکومت کی مدد کی جائےگی۔ امریکی سفیر گزشتہ دو دنوں سے پشاور کے دورے پر ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں باجوڑ ایجنسی کے علاقے سلالہ میں امریکی فوج کے حملے میں چویبس پاکستانی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں سخت کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ منگل کو قومی سلامتی کے بارے میں خصوصی کمیٹی نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کردہ سفارشات میں تجویز کیا تھا کہ حکومت پاکستان امریکہ سے کہے کہ وہ سلالہ چیک پوسٹ حملے پر غیر مشروط معافی مانگے اور ڈرون حملوں پر نظرثانی کرے۔

سفارشات میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان کی شق چالیس اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق امریکہ پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت کا احترام کرے اور تعاون کے تمام معاہدوں کو تحریری شکل دے اور اس پر پارلیمان کی نگرانی قائم کی جائے۔