ارباب غلام رحیم کی رکنیت منسوخ

ارباب غلام رحیم تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہنا ہے کہ انہیں اس کا علم تھا کہ ان کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا۔

جمعرات کو سندھ اسمبلی نے مسلسل غیر حاضری پر سابق وزیرِ اعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم کی نشست متفقہ طور پرخالی قرار دے دی ہے۔ اس مقصد کے لیے قرارداد وزیرِ بلدیات آغا سراج درانی نے پیش کی تھی۔ اس سے پہلے سندھ اسمبلی ان کی چھٹی کی درخواست مسترد کرچکی تھی اور ان کی عدالت میں دائر اپیل بھی مسترد ہو چکی تھی۔

اپنی نشست سے محروم ہونے کے بعد ارباب غلام رحیم کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے ہی اس کا اندازہ تھا کہ ان کے ساتھ ایسا ہو گا کیونکہ عدالت نے بھی ان کی اپیل مسترد کر دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ عدالت بھی جائیں گے اور اگر فیصلہ ان کے خلاف ہوا تو ضمنی انتخابات میں حصہ لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اب اسمبلی اپنی مدت پوری کرنے والی ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جلدی انتخابات کروانا چاہتی ہے اس لیے اس کی تک نہیں بنتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جام مدد علی کے بعد وہ دوسرے شخص ہیں جن کی رکنیت غیر حاضری پر منسوخ کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے سندھ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کےلیے درخواست دی اور سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لیا۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ابھی اس بات کا فیصلہ نہیں ہوا کہ اگر ضمنی انتخابات ہوئے تو وہ خود اس میں حصہ لیں گے یا پھر ان کی جماعت کا کوئی اور رکن ایسا کرے گا۔

کراچی سے حسن کاظمی کا کہنا ہے کہ ارباب غلام رحیم مسلم لیگ قاف ہم خیال کے سربراہ ہیں۔ یہ گروپ چوہدری برادران سے اختلافات کے بعد قاف لیگ سے علیحدہ ہوگیا تھا۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ وہ آئندہ عام انتخابات سے پہلے پاکستان واپس ضرور آئیں گے تاہم ابھی ایسے حالات نہیں ہیں کہ چار افراد سندھ اسمبلی میں بیٹھ کر حزبِ اختلاف کا کردار ادا کریں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دبئی میں ان کی سابق صدر پرویز مشرف سے ملاقاتیں ہوئی ہیں مگر وہ سیاسی نوعیت کی نہیں تھیں۔

اسی بارے میں