ازبک ملزمان کا تبادلہ، معاہدے کی منظوری

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے ازبکستان کے ساتھ ملزمان کی تبادلے کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ بات اطلاعات کی وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان نے صحافیوں کو کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی ازبک گرفتار ہوئے ہیں اور بعض قانونی پیچیدگیوں کے باعث انہیں اپنے وطن نہیں بھیجا جاسکتا ہے اس لیے اس نئے معاہدے کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ اس معاہدے کا مقصد کسی کو کوئی رعایت دینا نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کی جنگ کو ختم کرنا مقصود ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان میں سوات، ملاکنڈ، اورکزئی، وزیرستان اور مہمند ایجنسی میں فوجی کارروائی کے دوران ازبک باشندوں نے سیکورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی کی۔ جس میں کئی ازبک باشندے بشمول ان کے سرکردہ رہنما طاہر یلدشوف بھی شامل ہیں اور متعدد گرفتار بھی ہوئے۔

سرکاری طور پر تو پاکستان میں قید ازبک باشندوں کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔ البتہ پاکستان کی جیلوں میں قید غیر ملکیوں کی رہائی اور انہیں اپنے ممالک میں بھیجنے کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’ورلڈ پرزنرز ریلیف کمیشن آف پاکستان‘ کے سربراہ اور مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن قومی اسمبلی جاوید ابراہیم پراچہ کے مطابق مختلف جیلوں میں دو سو کے قریب ازبک قید ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں دو قسم کے ازبک باشندے ہیں۔ ان کے بقول ایلک تو وہ ہیں جو اپنے نام کے ساتھ افغان ازبک لکھتے ہیں اور دوسرے خالصتاً ازبک ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے دو شہروں کوئٹہ اور حب کے علاوہ راولپنڈی کی اڈیالہ اور خیبر پختونخوا کی مختلف جیلوں میں جو دو سو کے قریب ازبک قید ہیں ان کے اہل خانہ قبائلی علاقوں میں ان کے جاننے والوں کے ہاں مقیم ہیں۔

کوہاٹ سے سابق رکن قومی اسمبلی جاوید ابراہیم پراچہ نے بتایا کہ ان کی تنظیم نائن الیون کے بعد پاکستان سے چار ہزار سے زائد غیر ملکیوں کو رہا کرانے کے بعد اپنے ممالک میں بھیج چکی ہے۔

جس میں ان کے مطابق بڑی تعداد تو عرب باشندوں کی تھی جن کا تعلق الجزائر، سعودی عرب، کویت، مصر، تیونس، مراکش اور دیگر ممالک سے تھا۔ لیکن ان کے بقول ان میں سوا سو کے قریب غیر مسلم غیر ملکیوں کو امریکہ، جرمنی، فرانس اور برطانیہ سمیت یورپ کے بعض ممالک میں بھیجا گیا۔

اسی بارے میں