’پہلی بار خارجہ امور پارلیمان کے ہاتھ میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ other

پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پہلی بار انتظامیہ نے خارجہ امور پر غور و فکر کا فریضہ پارلیمان کو سونپ دیا ہے۔

یہ بات وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہی۔

پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ خارجہ پالیسی اور سلامتی کے معاملات فوج کے زیر اثر رہے ہیں اس میں سیاسی قیادت کا کبھی بھی کوئی موثر کردار نہیں رہا۔

ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے حالات میں تبدیلی سے آنے والے وقت میں پاکستان اور پاکستانی عوام کو فائدہ پہنچے گا۔

’جہاں تک میں دیکھ رہا ہوں پاکستان تبدیل ہو رہا ہے اور یہ کئی طرح سے بہتری کی طرف جا رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پہلی بار انتظامیہ نے خارجہ امور کے معاملات پر غور و فکر کا فریضہ پارلیمان کو سونپا ہے اور یہ جہموری اداروں کو مستحکم کرنے کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ زندگی کے تمام شعبوں میں تبدیلی آرہی ہے۔ ’آپ سویلین ادارے دیکھیں، آپ ہماری سول سوسائٹی دیکھیں، آپ عدلیہ کو دیکھیں اور خود میڈیا بھی۔ آپ کسی بھی چیز کا نام لیں پاکستان درحقیقت آگے بڑھ رہا ہے۔‘

وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ’ہم بہت پر امید ہیں کہ یہ عمل جاری رہے گا اور آنے والے وقت میں اس سے پاکستان اور پاکستان کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں یہ سیاسی حکومت کتنا موثر ثابت ہوتی ہے اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ سیاسی قیادت خود کتنا خود اعتمادی کا اظہار کرتی ہے۔

اسی بارے میں