کوئی بھی ہارے یا جیتے، تبدیلی صرف ووٹ سے: نواز

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہندوستان کی کامیابی جمہوریت کا فروغ اور آئین پر چلنا ہے، نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ آمریت اور مارشل لاء نے پاکستان کو تقسیم کیا اور ملک کا بیڑہ غرق کیا ہے جبکہ جمہوریت نے ہمیشہ پاکستان کو جوڑا اور اکٹھا کیا ہے۔

وہ جمعہ کو لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے طلبا و طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

میاں محمد نواز شریف نے یوم پاکستان کے حوالے سے کہا کہ تئیس مارچ اُنیس سو چالیس کو منٹو پارک میں قائداعظم کی سربراہی میں جلسہ ہوا جس میں سبھی پاکستانی تھے نہ کوئی بنگالی، پنجابی، سندھی، بلوچی اور نہ کوئی پٹھان تھا لیکن آج ہمیں تقسیم کر دیا گیا ہے اور یہ سب ڈکٹیٹر شپ کے مرہون منت ہے۔

انہوں نے کہا پاکستان میں کوئی بھی جماعت ہارے یا جیتے لیکن اگر تبدیلی ووٹ کے ذریعے آتی ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان کی فتح ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ جب جنرل پرویز مشرف نے ان کو کراچی کی لانڈھی جیل میں بند کر دیا تو وہاں انہوں نے بی بی سی پر ہندوستان کی پچاس سالہ آزادی پر ایک بحث دیکھی تھی جس کا موضوع تھا ہندوستان کی پچاس سال میں سب سے بڑی کامیابی کیا ہے۔ اس بحث میں ہندوستان کے سابقہ وزرائے اعظم موجود تھے اور اس بحث کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ہندوستان کی سب سے بڑی کامیابی جمہوریت ہے جس کے ذریعے انہوں نے ترقی کی ہے یہ نہیں کہ ہندوستان ایٹمی طاقت ہے اور نہ ہی یہ کہ ان کی طاقت صنعت، ٹیکنالوجی یا برآمدات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی کامیابی جمہوریت کا فروغ اور آئین پر چلنا ہے جبکہ پاکستان میں آئین ٹوٹتے رہے ہیں قانون کو پامال کیا جاتا رہا ہے عدالتیں ٹوٹتی رہی ہیں اور جج گرفتار ہوتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک جمہوری اور آئینی وزیراعظم تھے اور اپنا کام پوری ذمہ داری سے انجام دے رہے تھے لیکن انہیں گرفتار کر کے سات سال کے لیے پاکستان سے باہر نکال دیا گیا۔

میاں نواز شریف نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ یہاں پر خواب دیکھنے اور دکھانے والا کام کسی اور کے سپرد کیا ہوا ہے اور لوگ یہاں صرف تبدیلی کی بات کرتے ہیں جبکہ تبدیلی تو وہ لا رہے ہیں اور وہ اپنے پچھلے ادوار میں بھی تبدیلی لا چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی قوم کے بچے اور بچیوں کے ہاتھوں میں بم یا بندوقیں نہیں دیں بلکہ وہ لیپ ٹاپ دے رہے ہیں اور تعلیم دے رہے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ آج عوام لوڈ شیڈنگ کے ستائے ہوئے ہیں جبکہ ان کے دور میں پاکستان کے پاس وافر بجلی موجود تھی اور وہ ہندوستان کو بجلی بیچنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں ملک میں دن رات ترقی ہو رہی تھی لیکن پھر مارشل لاء آگیا اور ملک میں خود کش دھماکے شروع ہو گے ملک کی پولیس فوج اور لوگوں پر حملے شروع ہو گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت صدر پاکستان آصف علی زرداری کی ضد پر حکومت میں شامل ہوئی لیکن اس کے بعد جب آصف علی زرداری نے اپنا راستہ بدلا تو ان کے جماعت حکومت سے علیحدہ ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اکیلی ملک کے مسائل مہنگائی، بیروزگاری اور لوڈ شیڈنگ کی ذمہ دار نہیں بلکہ ان کے ساتھ شامل تمام اتحادی جماعتیں بھی برابر کی ذمے دار ہیں اور ان تمام جماعتوں کو پاکستانی عوام کو جواب دینا پڑےگا۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ بد ترین حالات کے باوجود پر امید ہیں کہ پاکستان دوبارہ مضبوط ہوگا اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔

اسی بارے میں