’جان کو خطرہ ہے بیان لندن میں ریکارڈ کریں‘

حسین حقانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ پٹیشن حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ میں دائر کی ہے

واشنگٹن میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے کہ پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے ان کا بیان بھی منصور اعجاز کی طرح لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے۔

پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں لوگ لاپتہ ہوتے ہیں، ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے اور ان کے اغوا کے بعد ان کی لاشیں ملتی ہیں۔ ایسے میں ان کے بقول حسین حقانی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق صحافیوں کو ای میل کے ذریعے بھیجےگئے پیغام میں بتایا گیا ہے کہ یہ پٹیشن حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ میں دائر کی ہے۔

پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ منصور اعجاز نے اپنے بیان میں فضول اور سنسنی خیز الزامات لگائے ہیں اور کئی انٹیلی جنس ایجنسیاں ان کے ساتھ میمو کمیشن کی کارروائی کے دوران رابطے میں رہی ہیں اس لیے حسین حقانی کی جان کو خطرہ ہے۔

حسین حقانی کو سپریم کورٹ نے چار دن کے نوٹس پر متنازعہ میمو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی شرط پر ملک سے باہر جانے کی اجازت دی تھی۔ میمو تحقیقاتی کمیشن نے چھبیس مارچ کو انہیں اسلام آباد میں طلب کیا ہے اور منصور اعجاز کے بیان کے بعد اپنا بیان دینے کے لیے کہا ہے۔

لیکن حسین حقانی کے وکیل نے جب میمو کمیشن سے درخواست کی کہ حسین حقانی پاکستان نہیں آسکتے اور ان کا بیان بھی منصور اعجاز کی طرح لندن سے ویڈیو لینک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے تو کمیشن نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔

پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ جب ایک امریکی شہری کو لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیا ریکارڈ کرانےکی سہولت مل سکتی ہے تو پاکستان کے سابق سفیر کو کیوں نہیں؟ جس نے ملک کی خدمت کی ہے۔

اسی بارے میں