فاخرہ یونس کراچی میں سپردِ خاک

فاخرہ یونس فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس ساری کہانی کا آغاز انیس سو اٹھانوے میں ہوا جب فاخرہ یونس صرف اٹھارہ برس کی تھیں

بارہ سال قبل تیزاب سے جھُلسائی جانے کے بعد خود کشی کرنے والی فاخرہ یونس کو اتوار کو کراچی کے علاقے ڈیفنس کے قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔

ان کی میت اتوار کی صبح اٹلی کے شہر روم سے کراچی لائی گئی، جس کے بعد ان کی نمازِ جنازہ ایدھی سینٹر میں ادا کی گئی۔

فاخرہ یونس نے سترہ مارچ کو اٹلی کے شہر روم میں اس عمارت کی چھٹی منزل سے کود کر خودکشی کرلی تھی جہاں وہ تیزاب سے جھلسائے جانے کے بعد رہ رہی تھیں۔ انہوں نے خودکُشی سے پہلے اپنے آخری پيغام میں لکھا تھا کہ وہ مظالم پر قانون کی خاموشی اور پاکستانی حکمرانوں کی بے حسی سے مایوس ہوکر خود کشی کر رہی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اتوار کی صبح فاخرہ یونس کی میت اٹلی کے شہر روم سے کراچی پہنچی تو اٹلی کےقونصل جنرل کے علاوہ معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی، قومی اسمبلی کی رکن خوش بخت شجاعت اور تہمینہ درانی سمیت بڑی تعداد میں سیاسی اور سماجی کارکنان ائر پورٹ پر موجود تھے۔

فاخرہ کی نمازِ جنازہ دوپہر کو ایدھی سینٹر میں ادا کی گئی۔

جھلسائی جانے کے بعد فاخرہ کے چہرے کی اڑتیس سرجریز کی گئیں تاہم ان کا چہرہ پوری طرح بحال نہیں ہو سکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کراچی میں فاخرہ کے رشتہ دار ان کی میت پر رو رہے ہیں

تہمینہ درانی بھی سے متاثرہ خاندان کے ساتھ کراچی پہنچیں۔ فاخرہ یونس کو اٹلی بھیجنے میں تہمینہ درانی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

یاد رہے کہ چودہ مئی سن دوہزار کو فاخرہ یونس کے چہرے کو تیزاب پھینک کر جھلسا دیا گیا تھا اور تیزاب پھینکنے کا الزام ان کے شوہر بلال کھر پر آیا تھا جو سابق گورنر پنجاب مصطفٰی کھر کے صاحبزادے ہیں۔ تیزاب سے فاخرہ کا چہرہ بری طرح جھلس گیا تھا۔

اس ساری کہانی کا آغاز انیس سو اٹھانوے میں ہوا جب فاخرہ یونس صرف اٹھارہ برس کی تھیں اور کراچی کے علاقے نیپئر روڈ کی معروف عمارت ’بلبل ہزار‘ کی رہنے والی تھیں، وہیں ان کی ملاقات مظفرگڑھ سے پنجاب اسمبلی کے رکن بلال کھر سے ہوئی جس کے بعد دونوں نے شادی کرلی۔ نیپئر روڈ کراچی کا بازار حسن ہے۔

بلال کے والد غلام مصطفی کھر کو اس شادی پر شدید اعتراض تھا۔ اس کے باوجود دونوں تین سال تک ساتھ رہے۔ فاخرہ کو جب بلال کی تین سابقہ بیویوں کے بارے میں علم ہوا تو دونوں میں جھگڑے شروع ہوگئے۔

فاخرہ یونس نے الزام لگایا تھا کہ انہیں شادی کے کچھ ہی عرصے کے بعد مبینہ طور پر شوہر کی جانب سے جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا تھا اور یہ سلسلہ تین سال تک جاری رہا، جس کے بعد وہ تنگ آ کر اپنی والدہ کے گھر واپس چلی گئیں اور اسی بات سے مشتعل ہوکر بلال کھر نے چودہ مئی دو ہزار کو مبینہ طور پر ان پر تیزاب پھینک دیا جس سے وہ بری طرح جھلس گئیں اور انہوں نے تین مہینے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں گزارے۔

فاخرہ کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد وہ ایف آئی آر کٹوانے کے لیے چکر کاٹتے رہے اور بالآخر اکتیس اکتوبر دوہزار دو کو بلال کھر کو گرفتار کر لیا گیا، دوہزار تین میں بلال کھر کو دو لاکھ روپے کی ضمانت پر رہا کردیا گیا اور بعد میں ان پر لگائے جانے والے الزامات درست ثابت نہیں ہوئے اور انہیں بری کر دیا گیا۔

اسی بارے میں