سکڑتا انسانی ورثہ، کانی گرام سے کراچی تک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کانی گرام سے نکلنے کے بعد برکی قبائل کی پچھتر فیصد آبادی نے کراچی کا رخ کیا۔

کراچی میں ایک ایسی زبان سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے جس کے بولنے والے ایک طرف تو نقل مکانی کا غم منا رہے ہیں اور دوسری جانب اپنی زبان کے ختم ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔

یوں تو پاکستان میں 27 زبانوں کے وجود کو شدید خطرات لاحق ہیں مگر خوبصورت علاقے کی انتہائی خوبصورت زبان ’اورمڑی‘ اب فنا ہونے کے قریب ہے۔

دس ہزار افراد پر مشتمل اورمڑی زبان بولنے والے برکی قبائل وزیرستان کے علاقے کانی گرام میں سنہ دو ہزار آٹھ میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد سے پورے ملک میں پھیل گئے۔ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے چالیس کلومیٹر دور شمال کی جانب واقع کانی گرام کا علاقہ برکی قبائل کا مسکنِ اصلی ہے۔

کانی گرام سے نکلنے کے بعد برکی قبائل کی پچھتر فیصد آبادی نے کراچی کا رخ کیا۔ اس بڑے شہر نے ان کو اپنی آغوش میں جگہ تو دی مگر اس میں برکیوں کو اپنی زبان کے ختم ہوجانے کا شدید خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔

اورمڑی زبان کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے منور برکی نے، جنہوں نے برکی ویلفیئر آرگنائزیشن اسی مقصد کے لیے قائم کی ہے، بتایا کہ اگر یہ لوگ واپس اپنے گاؤں نہیں گئے تو بہت جلد کئی ہزار سال سے زائد عرصے پر محیط یہ زبان معدوم ہوجائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں وہ صرف اپنے گھر میں ہی اپنی زبان بولتے ہیں اور گھر سے باہرکی دنیا بالکل مختلف ہے۔ تاہم اس کا سب سے زیادہ اثر ان کے بچوں اور نئی نسل پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں رہنے والے برکی پنجابی، اور پشاور میں رہنے والے اب پشتو بولتے ہیں۔

برکی قبائل ہزاروں سال سے پشتونوں کے درمیان آباد ہیں۔ شکل وصورت کے اعتبار سے برکیوں اور پشتونوں میں کوئی فرق نہیں۔ مگر زبان بالکل مختلف ہے۔ جب برکی کانی گرام میں آباد تھے تب ان کی زبان کو کوئی خطرہ نہیں تھا کیونکہ اس علاقے میں صدیوں سے آباد یہ لوگ اپنے انداز میں اپنی زبان اور خوبصورت ثقافت کا تحفظ کر رہے تھے۔

پشاور میں مقیم محقق اور اورمڑی زبان کے شاعر روزی خان برکی نے اورمڑی زبان کی تاریخ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ زبان اتنی ہی قدیم ہے جتنی اس خطے میں بولی جانے والی دیگر زبانیں فارسی، پشتو اور بلوچی ہیں لیکن تاریخی طور پر یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ نقل مکانی کی ہے اور اس نقل مکانی کے اسباب بھی مختلف رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں سیاست، صحافت اور کھیل سمیت ہر میدان میں برکی نظر آئیں گے مگر وہ اورمڑی زبان بھول چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ برکیوں اور مغلوں کے مابین ڈیڑھ سو سال تک ہونے والی جنگ نے بھی ان لوگوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا اور پھر بار بار کی اس نقل مکانی نے ان سے ان کی زبان چھین لی۔ لاہور میں موجود برکی اس کی ایک بہت بڑی مثال ہیں۔

اورمڑی زبان کو مکمل طور پر تباہی سے بچانے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ بیس سال سے اپنی زبان کے تحفظ کے لیے کام کررہے ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے انیس سو ننانوے میں اورمڑی زبان کے لیے حروفِ تہجی اور ابتدائی رسم الخط کا خاکہ بھی تیار کیا جسے مقامی سطح پر بہت سراہا گیا اور یہ امید پیدا ہوئی کہ کسی نہ کسی شکل میں زبان کا تحفظ کیا جاسکے گا۔ لیکن پاکستانی فوج کی جانب سے ہونے والے آپریشن کے بعد یہ امید دم توڑتی نظر آ رہی ہے اور اب ایسا لگ رہا ہے کہ یہ زبان بالکل معدوم ہوجائے گی۔

پاکستان میں سیاست، صحافت اور کھیل سمیت ہر میدان میں برکی نظر آئیں گے مگر وہ اورمڑی زبان بھول چکے ہیں۔

اس وقت کانی گرام کی حالت یہ ہے کہ وہاں صرف پاکستانی فوج کے جوانوں کے مورچے ہیں جب کہ اس علاقے کے لوگوں کی آخری نشانی ’اورمڑی‘ زبان کراچی کے شور میں گم ہونے کی طرف جا رہی ہے۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے شعبہ پشتو کے استاد اور ماہر لسانیات اباسین یوسف زئی نے بتایا کہ ’پاکستان میں زبانوں کے تحفظ کے لیے سرکاری سطح پر کوئی ادارہ موجود نہیں ہے۔‘

اورمڑی زبان کے تحفظ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ پہلی فرصت میں ایف ایم ریڈیو پر ایک گھنٹے کا پروگرام شروع کرے اور سرکاری سطح پر اس زبان کے تحفظ کے لیے اس کے رسم الخط کو نئی نسل تک پہنچائے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کے اس اقدام کو سراہا جس میں بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم کا حق دیا گیا ہے ۔اباسین یوسف زئی کے مطابق اگر جلد یہ اقدامات نہیں کیے گئے تو اورمڑی زبان کی طرح اور بہت ساری زبانیں معدوم ہوجائیں گی۔