را کے کسی افسر سے کبھی ملاقات نہیں کی: یاسین ملک

یاسین ملک تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یاسین ملک کمیشن کے سامنے اپنا بیان قلمبند کرانے کے لیے سنیچر کو سرینگر سے اسلام آباد پہنچے تھے

خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یعنی جے کے ایل ایف کے سربراہ محمد یاسین ملک نے متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے پاکستان کے عدالتی کمیشن کے سامنے اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاسی زندگی میں کبھی بھی ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ’ریسرچ اینڈ انالیئسز ونگ‘ یعنی را کے سابق سربراہ سے نہیں ملے۔

جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک نے کمشین کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا ’میں نے اپنی تیس سالہ سیاسی زندگی میں کبھی بھی را کے کسی بھی چھوٹے، بڑے یا درمیانے درجے کے افسر کے ساتھ ملاقات نہیں کی۔‘

انہوں نے کہا کہ’اگر یہ ثابت ہو جائے تو میں سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لوں گا۔‘

بیان قلمبند کراتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ ان کی آج تک متنازع میمو کے متنازع کردار امریکی شہری منصور اعجاز سے دو مرتبہ ملاقات ہوئی ہے۔

لیکن ان کے بقول منصور اعجاز نے خود کبھی بھی انھیں را کے سربراہ سے ملاقات کرنے کے لیے نہیں کہا۔

کشمیری رہنما یاسین ملک نے کہا کہ منصور اعجاز سے ان کی پہلی ملاقات نومبر 2000 میں ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے زیر اہتمام کشمیر کے معاملے پر ایک سیمنار میں ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس سیمنار کے منتظیمن کے علاوہ خود منصور اعجاز نے بھی اپنے آپ کو اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے خصوصی ایلچی کے طور پر متعارف کرایا۔

جے کے ایل ایف کے رہنما نے کہا کہ منصور اعجاز نے سمینار میں اپنی تقریر میں مسلمانوں کے بارے میں متنازع بیان دیا جس کی وجہ سے ان کی منصور اعجاز کے ساتھ تلخی بھی ہوئی۔

یاسین ملک نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد منصور اعجاز نے معذرت کی اور انہیں اگلے دن دوپہر کے کھانے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کی تھی۔

یاسین ملک نے کہا کہ دوپہر کے کھانے کے لیے وہ اکیلے دہلی میں واقع اس ہوٹل کے کمرے میں گئے جہاں منصور اعجاز ٹھہرے ہوئے تھے۔

کشمیری رہنما نے کہا کہ کچھ دیر بعد ایک اور شخص منصور اعجاز کے کمرے میں آیا جس کا تعارف منصور اعجاز نے اپنی ہندوستانی بزنس مین دوست کے طور پر کرایا۔

کشمیری رہنما نے کہا کہ اس شخص نے پہلے ان کی اور کشمیریوں کی جدوجہد کی تعریف کی اور پھر اس شخص نے کہا ’کیا آپ را کے سربراہ اے ایس دلت سے ملاقات کرسکتے ہیں؟‘

ملک نے کہا کہ وہ شخص کچھ دیر اصرار کرتے رہے کہ میں را کے سربراہ سے ملاقات کروں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں شبہ ہوا کہ یہ بزنس مین نہیں ہوسکتا کیوں کہ بزنس مین ایسی بات نہیں کہہ سکتا بلکہ یہ خفیہ ادارے کا کوئی اہلکار ہوسکتا ہے۔

یاسین ملک نے کہا کہ انہوں نے را کے سربراہ سے ملاقات کرنے سے انکار کیا اور دوپہر کا کھانا کھائے بغیر وہاں سے چلے آئے۔

ملک نے کہا کہ مارچ سنہ 2001 وہ اپنے علاج کے لیے امریکہ گئے جہاں ان کی ملاقات امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں سے ہوئی۔

ملک نے کہا کہ انہوں نے امریکی اہلکاروں سے دریافت کیا کہ آیا منصور اعجاز امریکی صدر بل کلنٹن کے خصوصی ایلچی مقرر ہوئے ہیں تو انہوں نے اس کی تردید کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تنازعہ میمو کے مرکزی کردار منصور اعجاز

ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد وہ اپنے تین اور ساتھیوں کے ہمراہ نیویارک کے علاقے منہیٹن میں واقع منصور اعجاز کے فلیٹ پر انہیں یہ کہنے گئے کہ انہوں نے غلط بیانی کی تھی کہ وہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ منصور اعجاز خاموشی سے ان کی بات سنتے رہے جس کے بعد وہ اور ان کے ساتھی وہاں سے چلے آئے۔

اسی دورے کے دوران یاسین ملک امریکہ سے لندن بھی گئے تھے جہاں قیام کے دوران ان کے بقول انہیں فرانس سے ایک شخص نے کئی بار موبائل سے ٹیلی فون کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹیلی فون کرنے والے شخص نے اپنا تعارف سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے سیکرٹری کے طور پر کرایا اور کہا کہ بی بی دو دن بعد لندن آ رہی ہیں اور آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔

لیکن عدالتی کمیشن نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ پہلے وہ ان کیمرہ اس کی تفصیلات سنیں گے جس کے بعد اس کی تفصیلات بتانے یا نہ بتانے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

یاسین ملک نے کمیشن سے استدعا کی کہ اس کا پاکستان کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کا تعلق متنازع میمو کے متنازع کردار منصور اعجاز سے ہے لیکن کمیشن نے یاسین ملک کے اس درخواست کو مسترد کیا۔

ان کیمرہ تفصیلات سننے کے بعد ڈپٹی اٹارنی جنرل کے اعتراض پر کمیشن کے سربراہ بلوچستان کے چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے یاسین ملک کو اس واقعہ کی تفصیلات بتانے کی اجازت نہیں دی۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک کمیشن کے سامنے اپنا بیان قلمبند کرانے کے لیے اتوار کو سرینگر سے اسلام آباد پہنچے تھے۔

واضح رہے کہ متنازع میمو کے مرکزی کردار منصور اعجاز نے کمیشن کے سامنے اپنے بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے کشمیری رہنما یاسین ملک اور بھارت کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے درمیان ملاقات کرائی تھی۔

اس بیان کے بعد یاسین ملک نے پاکستان کی سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی کہ انہیں بھی اس مقدمے میں پارٹی بنایا جائے جو عدالتی کمیشن نے قبول کی تھی۔

اسی بارے میں