پاک امریکہ تعلقات، سفارشات پر بحث نہ ہو سکی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیر کو منعقد ہونے والا اجلاس بجلی کی لوڈشیڈنگ اور اضافی بلوں پر ہنگامہ آرائی کی نظر ہو گیا

امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر بحث کے لیے بلائے گئے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں دوسرے روز منگل کو بھی سفارشات پر باقاعدہ بحث کا آغاز نہیں ہو سکا ہے۔

پارلیمان میں حزب اختلاف نے دھمکی دی کہ اگر اسکے تحفظات دور نہیں کیے گئے تو وہ سفارشات پر بحث کا آغاز نہیں ہونے دے گی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان نے کراچی میں اپنے کارکن کی ہلاکت کے خلاف اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات قابل عمل نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک حزب مخالف کے تحفظات دور نہیں ہوتے ان سفارشات پر پارلیمان میں بحث نہیں ہو سکتی اور حزب اختلاف اس بحث کا آغاز نہیں کرے گی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ایسی تجاویز تیار کی گئی ہیں جن میں زبانی معاہدے، غیر ملکی طاقتوں کو جگہ دینے اور دوسرے ملکوں کے سکیورٹی اداروں کو کھلی چھٹی دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

جمعیت علماء اسلام ’ف‘ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ان سفارشات پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی گی تو ہم دیکھتے ہیں کہ زمین پر کیسے عمل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ سفارشات اکثریت کے ساتھ منظور ہوگیں تو یہ صرف اکثریت کا فیصلہ ہوگا نہ کہ ایوان کا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکی معافی کو صرف سلالہ کے واقعے کے ساتھ ہی کیوں جوڑا جا رہا ہے جبکہ امریکی ڈرون حملے نہ صرف پاکستان کے خود مختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ ان حملوں میں بے گناہ پاکستانی بھی مرتے رہے ہیں۔

انھوں نے سوال کیا کہ کہ ان خدشات کے باوجود ہم یہ راستہ کیوں کھولنا چاہتے ہیں۔

پارلیمان کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے سربراہ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمان کو پہلی بار موقع ملا ہے کہ وہ خارجہ پالیسی کے رہنما اصول ترتیب دے۔

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ یہ سفارشات حکومت کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سفارشات پارلیمانی کمیٹی کی ہیں جس میں تمام جماعتوں کے نمائندے موجود تھے اور انہوں نے متفقہ طور پر دستاویز تیار کی ہے۔

واضح رہے کہ صرف جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر پروفسیر خورشید نے بعض تحفظات کی بناء پر اس کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا۔

رضا ربانی نے کہا کہ یہ صرف تجاویز ہیں اور انھیں پارلیمان میں اسی لیے پیش کیا گیا تا کہ اس پر بحث ہو سکے اور اتفاق رائے سے حتمی رہنما اصول تیار کر کے حکومت کو پیش کیے جا سکیں۔

صدر پاکستان کے ترجمان اور سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی کارروائی کو خفیہ رکھ کر کے کمیٹی نے خود کو عوام اور سول سوسائٹی کی عقل و فہم سے محروم کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ شفافیت اور کھلی بحث سے عبارت ہوتی ہے اور پارلیمنٹ کا ریاست کے دوسرے اداروں میں عوامی شرکت اور شفافیت کا جو مقدمہ ہے، رازداری برتنے سے وہ کمزور ہوگا۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹ ریاست کے دوسرے اداروں سے اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے پر زور دیتی ہے لیکن اسے بھی ایسی مثال قائم کرنی چاہیے جس کی وہ دوسرے اداروں سے توقع کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ دن گئے جب سول اور فوجی اسٹیبلشمنٹ منتخب نمائندوں کے بغیر ملک کی خارجہ پالیسی بناتی تھی۔

’وہ دن بھی گئے جب وزیر اعظم جونیجو کو جنیوا معاہدے کے بارے میں قوم کو اعتماد میں لینے پر رخصت کر دیا گیا اور جب وزیر اعظم نواز شریف کو بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں پر اقتدار سے محروم اور جلا وطن کر دیا گیا تھا اور جب وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو اپنا منتخب وزیر خارجہ مقرر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ دن بھی گئے’جب ایک فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے 1982 میں امریکی صدر ریگن کے پاؤں پڑ کے ان کو یقین دلایا تھا کہ پوری پاکستانی قوم امریکی صدر کے پیچھے ہے، اب پاکستانی پارلیمنٹ امریکی انتظامیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہی ہے بہت ہو چکا اور یہ کہ پاکستان اپنی عزت و وقار کا تحفظ کرنا جانتا ہے۔‘

پارلیمنٹ کا اجلاس بدھ کو بھی جاری رہے گا۔

اسی بارے میں