توہینِ عدالت کیس بارہ اپریل تک ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اعتزاز احسن نے شکوہ کیا کہ جج تو ازراہ مذاق بات کر دیتے ہیں لیکن اس سے ہماری تضحیک ہوتی ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت بارہ اپریل تک ملتوی کردی ہے۔

منگل کو سماعت شروع ہوئی تو وزیر اعظم گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ ان کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی لیکن اس کے باوجود عدالت کے حکم کی وجہ سے وہ پیش ہوئے ہیں۔

انہوں نے اپنے دلائل کی تیاری کے لیے اگلے ہفتے تک کا وقت مانگا جس پر بینچ کے سربراہ ناصر الملک نے کہا کہ اگلے ہفتے بینچ کے بعض ارکان موجود نہیں ہوں گے جس کے بعد مقدمے کی سماعت بارہ اپریل تک ملتوی کردی گئی۔

نامہ نگار احمد رضا کے مطابق اعتزاز احسن علالت کی بناء پر گزشتہ سماعت پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ منگل کو اعتزاز احسن نے بینچ سے شکوہ کیا کہ جج حضرات سماعت کے دوران جو تبصرے کرتے ہیں اسے ذرائع ابلاغ اپنے انداز میں شائع کرتا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ منگل کے پاکستانی اخبارات میں بھی خبریں لگی ہوئی ہیں کہ ان کے پیش نہ ہونے پر بینچ نے ان کے نائب سے کہا ہے کہ اعتزاز بیمار ہیں تو ڈبل ڈوز (دوا کی دوگنی مقدار) کھائیں اور عدالت میں پیش ہوں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ بڑی عجیب بات ہے بیمار کوئی بھی ہوسکتا ہے اور اس طرح کی باتوں سے ان کی تضحیک ہوتی ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ہم نے وہ تو ویسے ہی از راہ مذاق یہ بات کہی تھی۔

اس پر اعتزاز احسن نے شکوہ کیا کہ آپ تو ازراہ مذاق کہہ دیتے ہیں لیکن اس سے ہماری تضحیک ہوتی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس ناصر الملک نے وزیر اعظم گیلانی کے وکیل سے یہ بھی پوچھا کہ وہ اپنے دلائل مکمل کرنے میں مزید کتنے دن لیں گے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ انہیں بہت سی چیزیں ریکارڈ پر لانی ہیں اس لیے عدالت ان کے دلائل کے دورانیے کو محدود نہ کرے۔

واضح رہے کہ پچھلے ہفتے بھی مسٹر احسن نے عدالت نے اپنے دلائل کی تیاری کے لیے چار دن کا وقت مانگا تھا لیکن عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی تھی بعد میں ان کے نائب نے بھی عدالت سے مسٹر احسن کی علالت کی بناء پر مزید وقت مانگا لیکن عدالت نے انہیں بھی صاف جواب دیدیا تھا۔

اسی بارے میں