تعلیمی اداروں میں بدامنی کے خلاف مارچ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ سندھ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بدامنی اور تدریسی عمل کی بحالی کے لیے قوم پرست جماعت عوامی جمہوری پارٹی کی جانب سے مارچ کیا جا رہا ہے۔

عوامی جمہوری پارٹی ترقی پسند سوچ کے حامل قوم پرستوں کی جماعت ہے، جو اپنے قیام کے دو برسوں کے اندر کافی قدر مقبول ہوئی ہے۔

’تعلیم بچاؤ سندھ سنوارو‘ کے نعرے کے تحت یہ مارچ سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کی نگری بھٹ شاہ سے شروع کیا گیا جس میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شریک ہیں۔

یہ پیدل مارچ کھیبر، مٹیاری اور حیدرآباد سے ہوتا ہوا تیس مارچ کو سندھ یونیورسٹی جام شورو میں اختتام پذیر ہوگا۔

مارچ کی قیادت تنظیم کے ابرار قاضی، حریف چانڈیو اور نظیر قریشی کر رہے ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ماضی میں کمیونسٹ رہنما کامریڈ جام ساقی، قوم پرست رہنما رسول بخش پلیجو اور ڈاکٹر قادر مگسی سندھ میں امن، خوشحالی اور وسائل پر خود مختیاری کے لیے لانگ مارچ کر چکے ہیں مگر تعلیم کے موضوع پر یہ پہلا مارچ ہے۔

سندھ یونیورسٹی میں پروفیسر بشیر چنڑ اور اس کے بعد ایک طالب علم کے قتل کے بعد جامعہ کئی ماہ تک بند رہی اور اساتذہ نے پچپن روز تک تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا، جس کے نتیجے میں وائس چانسلر نذیر مغل کو فارغ کیا گیا، سندھ کے سیاسی، صحافتی اور ادبی حلقوں میں تدریسی عمل کی معطلی زیر بحث ہے۔

عوامی جمہوری پارٹی کے سربراہ ابرار قاضی کا کہنا ہے کہ سندھ میں تعلیم کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے، اس اہم معاملے پر چشم پوشی اور خاموشی کے بجائے سیاسی جماعتوں اور عام لوگوں کو میدان میں نکلنا پڑے گا کیونکہ بہتر اور معیاری تعلیم ہی راہ نجات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ یونیورسٹی کو مقتل گاہ بنادیا گیا ہے، جہاں اساتذہ اور طالب علموں کو سر عام قتل کیا جاتا ہے مگر حکومتی مشنری نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

جمہوری وطن پارٹی کا مطالبہ ہے کہ جامعات میں وائس چانسلرز کی مقرریاں سیاسی بنیادوں کے بجائے میرٹ پر کی جائیں، وزیر تعلیم پیر مظہر الحق خود کو ایک اچھا اور موثر وزیر تعلیم ثابت نہیں کرسکے ہیں، اس لیے وہ یہ ذمہ دار قبول کریں اور رضاکارانہ طور پر مستعفی ہوجائیں۔

اسی بارے میں