اے این پی کے رہنما ہلاک، شہر میں کشیدگی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بدھ کو عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کی ہلاکت کے بعد شہر میں صورتِ حال دوبارہ کشیدہ ہوگئی ہے۔

بدھ کی شام کراچی کےمصروف علاقےناظم آباد میں میٹرک بورڈ آفس کے قریب نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے ایک کار میں سوار عوامی نیشنل پارٹی کے دو مقامی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جس سے ایک ہلاک اور دوسرے شدید زخمی ہوگئے۔

اس سے پہلے منگل کو ایم کیو ایم کے کارکن کے قتل کے بعد شہر میں شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں دس افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں ایک پولیس موبائل سمیت تینتیس گاڑیاں بھی جلا دی گئی تھیں۔

اے این پی سندھ کےجنرل سیکرٹری بشیر جان نے بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے پارٹی رہنما کا نام زین العابدین تھا اور وہ پٹیل پاڑہ وارڈ کے جنرل سیکرٹری تھے جب کہ ان کے ساتھ زخمی ہونے والے ساجد حسن زئی پٹیل پاڑہ وارڈ کے صدر تھے۔

زخمی ہونے والے ساجد حسن زئی کو جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

کراچی میں اپنے کارکنان کی ہلاکت پر اے این پی نے جمعرات کو یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں منگل کے واقعات کے بعد صورتحال معمول پر آنا شروع ہوئی تھی تاہم بدھ کو دوبارہ کشیدہ ہو گئی

اے این پی سندھ کے جنرل سیکرٹری بشیر جان کا کہنا ہے کہ ان کا یوم سوگ پُرامن ہوگا اور اے این پی کے تمام دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے۔

کراچی میں اے این پی کے مقامی رہنماؤں کی ہلاکت کی اطلاع ملتے ہی کراچی کے مختلف علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی۔

اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے تین ہٹی میں مشتعل افراد نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔

شہر کے دیگر کئی علاقوں سے جن میں سہراب گوٹھ ، ناظم آباد ، نشتر کالونی، ابوالحسن آصفہانی روڑ، ایمپریس مارکیٹ، بوہری بازار، نیپا چورنگی سے فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ انہیں علاقوں میں مسلح افراد کی جانب سے زبردستی دکانیں بند کروائے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

شہر میں جاری کشیدگی کے باعث شہر کی تمام اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام ہوگیا اور سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی۔

کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کی چیئرمین ارشاد بخاری نے اعلان کیا ہے کہ حالات کے پیشِ نظر جمعرات کو پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلائی جائے گی۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے اے این پی کے کارکن زین العابدین کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ان کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں