ستائیس مارچ کا کراچی

صبح ساڑھے چار بجے کے لگ بھگ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہر ایک کو یہ خیال رہتا ہے کہ گولی صرف اسے نشانہ بناتی ہے جس کا کسی نہ کسی بات سے کوئی تعلق ہوتا ہے۔

کچھ مسلح افراد گنجان پیر الٰہی بخش کالونی کے ایک عام سے گھر میں داخل ہوئے اور ایم کیو ایم کے ایک کارکن منصور مختار، ان کے بھائی مقصود مختار اور بھابی عظمٰی کو گولیاں ماریں۔ منصور اور مقصود ہلاک ہوگئے اور عظمٰی شدید زخمی ہوگئیں۔

صبح سات بجے کے بعد

بچے سکول جا رہے ہیں۔ آنکھیں ملتے ویگن، بس، رکشہ، ٹیکسی والے مسافروں کی تلاش میں سڑک پر آ رہے ہیں۔ بیکریاں اور دودھ دہی کی دکانیں کھل رہی ہیں۔ حجام کھوکھوں کے تالے ڈھیلے کر رہے ہیں۔ خاکروب جھاڑو لگا رہے ہیں۔ سفید پوش سرکاری و نجی ملازم گھروں سے نکلا ہی چاہتے ہیں۔ مگر ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کا شہر بے خبر ہے کہ علی الصبح کسی منصور اور مقصود کو کسی نے ہلاک کر دیا ہے اور ایم کیو ایم نے اچانک یومِ سوگ کا اعلان کردیا ہے۔

ساڑھے سات بجے کے بعد

منی بس ڈبلیو اٹھارہ کے باجوڑی ڈرائیور شہزاد محمود کو مرتے دم تک پتا نا چلا کہ اسے کیوں گولیاں ماری جا رہی ہیں۔

رکشہ نمبر ڈی پندرہ چھ نوے کا ڈرائیور تاج محمد مرنے کے بعد بھی رکشے کی سیٹ پر جھکا رہا۔

محمد علی حجام گھر سے نکلنے سے پہلے ٹی وی کھول لیتا تو دکان کھولتے ہوئے شائد مارا نہ جاتا۔کچھ دن اور زندہ رہ لیتا ۔۔۔ شائد ۔۔۔

بے خبر ندیم رشید کی غلطی یہ ہے کہ وہ اس سڑک سے کیوں گذر رہا تھا جہاں دو گروہوں کے درمیان فائرنگ شروع ہو چکی تھی۔

اعظم حسین کو بیکری کھولنے سے پہلے کسی سے پوچھ لینا چاہیے تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیا پوچھنا چاہیے تھا لیکن اعظم کو کسی سے کچھ بھی پوچھ لینا چاہیے تھا۔ ہو سکتا ہے اس نےگولیاں مارنے والوں سے پوچھا ہو لیکن گولیاں مارنے والوں کو بھی شائد زیادہ پتا نا ہو یا وہ مرنے والے اعظم حسین کا سوال ہی نہ سمجھے ہوں یا پھر عجلت میں ہوں۔۔۔

بھلا رضوان اللہ کو صبح ہی صبح اپنی اہلیہ کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر میکے لے جانے کی کیا پڑی تھی۔ آدھے گھنٹے تک لاش سڑک پر پڑی رہی۔ پولیس کی گاڑی اتفاقاً نہ گذرتی تو رضوان اللہ کی بیوی مدد کے لیے چیختی ہی رہتی۔

اور یہ زرداد خان کو کیا سوجھی کہ اردگرد سے بے خبر اپنے ٹھیلے پر بھٹے بیچتا رہا۔ شائد اسے خوش فہمی ہو کہ بھٹے بیچنے سے کسی کو بھلا کیا نقصان ہوسکتا ہے۔ واقعی کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوا؟ خود فائدے نقصان کی حد پار کرجانے والے زرداد خان کو بھی نہیں۔ جانے اس کی بیوی اور چار بچوں کے نام کیا ہیں۔ ضرور کوئی نا کوئی بھلے سے نام ہوں گے ۔۔۔

بارہ سالہ آفاق کو اس کے والدین یہ کہہ کر ملتان سے لائے تھے کہ کراچی میں شادی ہے لیکن اس کے سر پر لگنے والی گولی کو کسی نے نہیں بتایا کہ آفاق کل واپس ملتان چلا جائے گا۔ آفاق ملتان چلا گیا۔ سر پر لگنے والی گولی سمیت ۔۔۔

آٹھ سالہ کبیر بھی مرگیا۔گولی نے اس کی زندگی کے کم ازکم ساٹھ برس ضائع ہونے سے بچا لیے۔

عبدالصمد کباڑی زندہ بھی رہتا تو کیا فرق پڑتا۔ کباڑ ہو کہ کباڑی۔ ان کے جینے مرنے کا کیا مطلب۔

کاکو بلوچ کیوں مارا گیا یہ تو مجھے نہیں معلوم لیکن یہ اچھا ہوا کہ کاکو مرگیا۔اس بہانے اخبار میں تو چھپ گیا۔

ایک پینتیس سالہ نامعلوم بھی مارا گیا۔ ویسے اس کا نام معلوم بھی ہوجائے تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑے گا۔

دو درجن کے لگ بھگ زخمیوں، چالیس سے زائد نذرِ آتش گاڑیوں، درجن بھر پتھاروں، ٹھیلوں، تین ہو ٹلوں اور چار پٹرول پمپوں کی بربادی کے تذکرے کی زندگی صرف چند گھنٹے کی ہے۔ لہذا ان پر مزید کیا بات کروں۔

مگر شکر ہے کہ کراچی میں ایک سو بارہ تھانے، چونتیس ہزار پولیس والے اور سات ہزار رینجرز سپاہی موجود ہیں۔ صد شکر کہ حکومت اس لاؤ لشکر پر سالانہ چالیس ارب روپے کے لگ بھگ خرچ کرتی ہے۔ خوش قسمتی ہے کہ وفاق میں رحمان ملک اور سندھ میں منظور وسان جیسے مخلص وزرائے داخلہ ہیں۔ قابلِ رشک ہے یہ نعمت کہ سندھ کی حکومت امن کی داعی پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، اے این پی، مسلم لیگ فنگشنل اور مسلم لیگ ق پر مشتمل ہے۔ ورنہ ستائیس مارچ بھی کراچی کے لیے کوئی عام سا دن ہوتا۔

اٹھائیس مارچ

کراچی بہت ڈھیٹ ہے۔ پھر ٹریفک جام ہے۔کاروبار ابلا پڑ رہا ہے۔ سڑکوں پر وہی طوفانِ بدتمیزی ہے۔ بس یہ ہوا ہے کہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ میں سے درجن بھر لوگ کم ہوگئے اور بارہ گورکنوں کی دیہاڑی بن گئی۔ قبر پر چھڑکاؤ کرنے والے بچوں کو بھی چند سکے مل گئے اور پھول بیچنے والوں کا بھی ایک دن کے لیے ذرا سا بھلا ہوگیا۔

میں تو آج پہچان بھی نہیں سکتا کہ ابھی ابھی میرے سامنے سے جو دو موٹر سائیکل سوار گذرے ہیں انہوں نے کل کس کو مارا یا کس گولی سے بال بال بچے ۔۔۔

لیجیے پھر تڑ تڑاہٹ شروع ہوگئی ۔۔۔ شائد وہی سب ہونے جارہا ہے جو کل ہوا تھا ۔۔۔ شائد اس سے بھی زیادہ یا اس سے بھی کم ۔۔۔ کل درجن مرے تھے ۔۔۔ ہو سکتا ہے کل تک دو درجن ہوجائیں ۔۔۔ لیکن کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔ مرنے والوں سے کہیں زیادہ تو روزانہ پیدا ہوجاتے ہیں ۔۔۔ بندوق کو رزق کی کمی تھوڑا ہی ہے ۔۔۔ آخر ایک کروڑ ساٹھ لاکھ حشرات الارض ہیں۔

اسی بارے میں