پنجاب: بجلی اور گیس کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بجلی اور گیس کی منصفانہ تقسیم کے لیے پنجاب کی حزب اقتدار اور حزب اختلاف متفق ہیں۔

پنجاب اسمبلی نے توانائی کے موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے جمعہ کو ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور کی جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ صوبوں میں گیس اور بجلی کی تقسیم منصفانہ بنیادوں پر کی جائے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے کافی عرصے سے احتجاج کیا جا رہا ہے کہ توانائی کی تقسیم میں اسے منصفانہ حصہ نہیں دیا جا رہا۔ اس ضمن میں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے ایوان میں قرارداد پیش کی۔

نامہ نگار مناء رانا کے مطابق اس قرار داد سے پہلے سپیکر کے چیمبر میں حکومت اور حزب مخالف کے رہنماؤں کا اجلاس ہوا اور قرار داد کے چند متنازع نکات کو نکال دیا گیا اور پھر اس ترمیم شدہ قرار داد کو ایوان میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کا انڈسٹری میں ساٹھ فیصد حصہ ہے اور پورے ملک کی ترقی پنجاب کی صنعتی اور زرعی ترقی کے ساتھ منسلک ہے۔

قرار داد میں حالیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ صوبوں میں گیس اور بجلی کی منصفانہ تقسیم کی جائے اور پن بجلی کے منصوبوں کو فوری فنڈنگ دی جائے تاکہ تیل پر منحصر مہنگی بجلی اور لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا مل سکے۔

ایران کے ساتھ گیس کی ترسیل کے معاہدے اور ایل این جی کی درآمد کے منصوبے پر فوری عمل کیا جائے۔

قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں موجود گیس کو ترجیہی بنیادوں پر صرف صنعتوں اور بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے اور دوسرے غیر پیداواری سیکٹر کے لیے گیس کی فراہمی پر پابندی لگا دی جائے۔

قرار داد میں یہ بھی کہا گیا کہ صوبوں کے توانائی کے منصوبوں کو مناسب ضمانت دی جائے اور اس کے نفاذ کے طریقۂ کار کو آسان اور قابل عمل بنایا جائے۔

نجی شعبے میں بجلی کی خرید و فروخت پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں

یاد رہے کہ جمعرات کو پنجاب میں حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی نے لاہور میں توانائی کے بحران پر ایک جلوس بھی نکالا تھا۔

اسی بارے میں