اورکزئی: اہم علاقے پر فوج کا کنٹرول

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ایک اہم پہاڑی علاقے پر قبضہ کرلیا ہے۔

پشاور میں فرنٹیر کور کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی پیش قدمی کے دوران ہونے والے ایک حملے میں دو سکیورٹی اہلکار اور گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اپر اورکزئی ایجنسی کے علاقے خادیزئی میں سکیورٹی فورسز کے دستے پیش قدمی کررہے تھے کہ اس دوران ان پر شدت پسندوں کی طرف سے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے۔

ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں متعدد شدت پسند بھی مارے گئے تاہم ان کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے لڑائی میں مارے جانے والے پینتیس شدت پسندوں کی لاشیں اپنے قبضہ میں لی ہیں۔

سرکاری ترجمان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے خادیزئی کے علاقے میں ایک اہم پہاڑی مورچے برلاسں کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ برلاس کے علاقے میں قبضہ کےلیے سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان تقریباً سات گھنٹے تک شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں عسکریت پسندوں کے تیرہ کے قریب مورچوں کو تباہ کیاگیا ہے۔ آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔

خیال رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں پچھلے دو تین سالوں سے کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ علاقے کے دو اہم مقامات لوئر اور سنٹرل اورکزئی کو شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے جبکہ آپر اورکزئی میں بھی اہم علاقے فورسز کے قبضہ میں آگئے ہیں۔

اس آپریشن کی وجہ سے لاکھوں افراد نے بے گھر ہوکر پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

حالیہ کارروائی ان علاقوں میں ہورہی ہے جو انتہائی کھٹن اور مشکل پہاڑی سلسلے بتائے جاتے ہیں اور جس کی سرحدیں کرم ایجنسی سے ملی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں