’کرائے کے بجلی گھر غیر قانونی، معاہدے منسوخ‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 30 مارچ 2012 ,‭ 13:24 GMT 18:24 PST

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے کے فیصلے میں تمام بجلی گھروں کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان معاہدوں فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں غیر معمولی طور پر اس مقدمے کے درخواست گذاروں وفاقی وزیر برائے ورکس و ہاؤسنگ فیصل صالح حیات اور مسلم لیگ (ن) کے قومی اسمبلی کے خواجہ محمد آصف کے کردار کو سراہا۔

اس مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

کلِک ’رینٹل پاور پلانٹس ابتداء ہی سے تنقید کی زد میں‘

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نو رینٹل پاور پلانٹس کے حکومت سے معاہدے غیر قانونی ہیں اور ان کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔

ان نو بجلی گھروں میں ٹیکنو فیصل آباد، پی پی آر سندھ، ٹیکنو سیالکوٹ، کرکے کرادنز، ینگ جین فیصل آباد، گلف گجرانوالہ، ریشما لاہور، والٹرز نوڈیرو ثانی اور نوڈیرو دوئم شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ تمام بجلی گھروں کے معاہدے غیر شفاف، غیرقانونی اور شروع دن سے ہی غلط تھے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ان معاہدوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

فیصلے میں عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ معاہدے کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

نو رینٹل پاور پلانٹس

ٹیکنو ، فیصل آباد

پی پی آر، گڈو

ٹیکنو، سیالکوٹ

کرکے کرندیز

ینگ جین، فیصل آباد

گلف، گجرانوالہ

ریشما، لاہور

والٹرز، نوڈیرو I

والٹرز، نوڈیرو II

عدالت نے اپنے فیصلے میں وزارت خزانہ، واٹر اینڈ پاوو ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)، پبلک سیکٹرز پاور جنریشن کمپنیز نے کرائے کے بجلی گھروں کو سات سے چودہ فیصد پیشگی رقم کی ادائیگی کرکے اور زیادہ قیمت پر بجلی خرید کر عوام کو اربوں کا نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جن بجلی گھروں کے ساتھ معاہدے ختم کیے گیے یا جو مقررہ مدت میں پیدوار شروع کرنے کا ہدف حاصل نہیں کرسکے، ان کے خلاف واجب الادا رقم سود سمیت واپس لینے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف اور سیکریڑی خزانہ سمیت تمام حکومتی اہلکار ’جن کے دور میں پیشگی رقم سات فیصد سے بڑھا کر چودہ فیصد کی گئی تھی‘ نے بادی النظر میں آئین کے تحت شفافیت کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے۔

عدالت نے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ لہٰذا ان افراد کی طرف سے بدعنوانی اور رشوت ستانی میں ملوث ہوکر مالی فائدہ حاصل کرنے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے فیصلے میں کہا ہے کہ احتساب بیورو ان کے خلاف قومی احتساب کے قانون کے تحت کارروائی کرے۔

عدالت نے احتساب بیورو کے چئیرمین کو حکم دیا ہے کہ تمام ذمہ داردوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ہر پندرہ روز اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

واضح رہے کہ ابتداء میں سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کی تنصیب کے بارے میں از خود نوٹس لیا تھا۔ تاہم فیصل صالح حیات نے کرائے کے بجلی گھروں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی۔

فیصل صالح حیات نے اپنی درخواست میں نجی پاور کمپنیوں سے ہونے والے ان معاہدوں میں پانی و بجلی کے سابق وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف پر مبینہ طور پر کروڑوں روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے غیر معمولی طور پر اس مقدمے کے فیصلے میں وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ و ورکس سید فیصل صالح حیات اور مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے رکن خواجہ محمد آصف کے کردار کو سراہا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے عوامی نمائندے ہونے کے ناطے بدعنوانی اور رشوت ستانی اس واقعے کو اجاگر کیا اور انھوں نے آئین اور عوام کے ساتھ کیا گیا واعدہ پورا کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔