’حکومت ہماری غربت کا مذاق اڑا رہی ہے‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیٹرول کی قیمت سو روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

’مشکل یہ ہے کہ کل میں نے گاڑی میں گیس ستر روپے فی کلو بھروائی تھی جبکہ آج مجھے اتنی ہی مقدار کے لیے ستاسی روپے دینے پڑ رہے ہیں اور یہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب پہلے ہی ہفتے میں تین دن سی این جی کی بندش ہے۔‘

یہ دارلحکومت اسلام آباد کے ایک پٹرول پمپ پر اپنی ٹیکسی میں گیس بھرواتے ہوئے ڈارئیور فیصل خان نے مجھے بتایا۔ وہ گزشتہ سات برس سے اسی شہر میں ٹیکسی چلا رہے ہیں۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے تیل کی مصنوعات اور گاڑیوں میں استعمال ہونے والی قدرتی گیس، سی این جی کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والی پریشانی باقیوں کی طرح ان کے چہرے پر بھی عیاں تھی۔

ان کا کہنا تھا ’پہلے ہی سواری سے کرایہ لیتے وقت نوک جھونک ہوتی تھی لیکن اس اضافہ کے بعد تو اور بھی مشکل ہو جائے گا۔‘

’حکومت ہماری غربت کا مذاق اڑا رہی ہے۔‘

مہنگائی کے ستائے ہوئے شہریوں سے جب گیس کی قمیتوں میں اضافے پر بات کرنے کی کوشش کی تو بعض لوگ اتنے غصے میں آگئے کہ مائیک دیکھتے ہی بولے ’لو اب زخموں پر نمک جھٹرکنے صحافی پہنچ گئے ہیں!‘

موٹر سائیکل چلانے والے ناصر اقبال پٹرول کی نئی قیمت ایک سو پانچ روپے ارسٹھ پیسے فی لیٹر اور سی این جی کی فی کلو قیمت میں گیارہ روپے اٹھاون پیسے کے اضافے کو ملک کی تاریخ اور اپنی زندگی کا بدترین اضافہ کہتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’میں چالیس برس کا ہو گیا ہوں اور میں نے اپنی زندگی میں ایک لیٹر پٹرول کے لیے کبھی اتنی قیمت ادا نہیں کی جو مجھے آج کرنا پڑ رہی ہے۔‘

ریاض علی او جی ڈی سی ایل میں کام کرتے ہیں اور ان کا تعلق ایک متوسط طبقے سے ہے۔ انہوں نے عوام کی معاشی تکلیف کو چند لفظوں میں بیان کرتے ہوئے کہا ’اب اشیائے خورد و نوش اور باقی ضروریاتِ زندگی کی ترسیل میں مزید پیسے خرچ ہوں گے جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا لیکن تنخواہ وہی رہے گی۔‘

اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں مسافر وین چلانے والے نصیر احمد نے شکوہ کیا کہ پہلے ہی مہنگائی نے کمر توڑ رکھی ہے اور اب تو اپنے لیے ماہانہ خرچ نکالنا بھی ناممکن لگ رہا ہے۔‘

اتوار سے پاکستان میں پٹرولیم کی مصنوعات اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے سے ناصرف عام شہری پریشان ہیں بلکہ تاجر برادری بھی متاثر ہو رہی ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر مجید عزیز کا کہنا تھا کہ ’گیس کی بندش کی وجہ سے پہلے ہی کارخانے اور کاروبار بند پڑے ہیں جبکہ پہلے اگر اسلام آباد سے ایک ٹن کوئلہ پشاور ڈھائی ہزاز روپے میں پہنچتا تھا تو اب وہ ساڑھے تین ہزاز روپے تک پہنچ گیا ہے جو کہ منافہ بحش نہیں رہا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تاجروں کے لیے ہر چیز کے دام دوگنے ہو جائے گیں اور پاکستان میں کاروبار کرنا مشکل سے مشکل ترین ہوتا جائے گا۔

مجید عزیز کے مطابق ’بجلی کی لوڈشیڈینگ کی وجہ سے لوگ فیکٹریوں میں جنریڑز استعمال کر رہے ہیں جن کی قیمتیں بھی اب آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔‘

مجید عزیز کا کہنا تھا کہ ’شہریوں کو انفلیشن سمیت پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کےلیے زیادہ کرائے بھرنے پڑیں گے جبکہ ملک میں بے روزگاری میں مزید اضافہ ہو گا۔‘

انہوں نے کہا ’اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سنہ دوہزاز تیرہ میں پاکستان میں گیس کی قلت بھی ماضی کی نسبت بلند ترین سطح پر ہو گی۔‘

گزشتہ چار ماہ کے دوران حکومت ِپاکستان کی جانب سے ہر ماہ کے آغاز پر پٹرولیم کی مصنوعات میں اضافہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے روز مرّہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی، بےروزگاری اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے پریشان حال عوام میں اضطراب پایا جاتا ہے۔

عوام کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی جو نئی لہر پھلیی ہے اس نے شہریوں کو مزید مالی بوجھ تلے دبا دیا ہے۔

اسی بارے میں