پٹرولیم: قیمتیں ایک نئی حد عبور کر گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں تیل اور گیس کی قیمت کا تعین کرنے واے ادارے اوگرا نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ، پیٹرول کی قیمت سو روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

سینچر کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں حکومت نے تیل کی مصنوعات اور گاڑیوں میں استعمال ہونے والی قدرتی گیس، سی این جی کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا ہے جن کا اطلاق یکم اپریل یعنی اتوار سے ہو گا۔

آٹھ روپے دو پیسے کے اضافے کے سے، پیٹرول کی قیمت ایک سو پانچ روپے اڑسٹھ پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں چار روپے ستر پیسے کا اضافہ ہوا ہے اور نئی قیمت ایک سو آٹھ روپے سولہ پیسے فی لیٹر ہو گی۔

مٹی کے تیل کی قیمت بھی، پانچ روپے انتیس پیسے کے اضافے کے ساتھ، ایک سو ایک روپے انہتر پیسے ہو گئی ہے۔

حکومت پاکستان نے گاڑیوں میں استعمال ہونے والی قدرتی گیس، سی این جی کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں۔ خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور پوٹھوہار کے علاقوں یعنی، راولپنڈی، اسلام آباد اور گوجر خان میں، سی این جی کی فی کلو قیمت میں گیارہ روپے اٹھاون پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔

یکم اپریل سے نئی قیمت اٹھاسی روپے ستر پیسے فی کلو گرام ہو گی۔ جبکہ صوبہ سندھ اور پنجاب میں نو روپے تریپن پیسے کے اضافے کے ساتھ، سی این جی کی فی کلو گرام قیمت، اسی روپے اٹھانوے پیسے ہو گی جس کا اطلاق یکم اپریل سے ہو رہا ہے۔

گذشتہ کئی مہینوں سے پاکستان میں لگ بھگ ہر ماہ کے آغاز پر پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے روز مرّہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے باعث مہنگائی کے خدشے کے پیشِ نظر عوامی حلقوں میں اضطراب پایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں