قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ سے سفارتی تعلقات پر نظرثانی کے لیے پاکستانی پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) نے احتجاجی طور پر شرکت نہیں کی۔

کمیٹی کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے مسلم لیگ (ن) سے منگل کو ہونے والے اجلاس میں شرکت کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حکومت کی نہیں بلکہ پارلیمان کی کمیٹی ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے میاں رضا ربانی نے کہا کہ کمیٹی اب ان نکات پر غور کر رہی ہے جن کے بارے میں مختلف جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

لیکن انہوں نے کمیٹی کے دوبارہ سفارشات کو حتمی شکل دینے کے بارے میں ٹائم فریم دینے سے گریز کیا اور کہا کہ جتنا جلد ممکن ہوا وہ انہیں مرتب کریں گے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کو ہونے والے اجلاس میں بعض اراکین نے تجویز دی ہے کہ نیٹو سپلائی کی بحالی کا معاملہ انتظامی فیصلہ ہے اور یہ فیصلہ حکومت خود کرے اور اس میں پارلیمان کو استعمال نہ کیا جائے۔

پیر کو کمیٹی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن، مشاہد حسین سید، حیدرعباس رضوی، آفتاب شیر پاؤ اور منیر اورکزئی شریک ہوئے۔

واضح رہے کہ میاں رضا ربانی کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اپنی چالیس سفارشات پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی تھیں جس پر پہلے حزب مخالف کی مسلم لیگ (ن) نے شدید اعتراضات اور تحفظات کا اظہار کیا اور بعد میں حکمران جماعت کے اراکین نے بھی اس پر کڑی نکتہ چینی کی۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا تھا کہ کمیٹی کو اپنی رپورٹ خفیہ نہیں رکھنی چاہیے تھی اور کمیٹی نے اپنے دائرہ کار سے باہر جا کر امریکہ کی بجائے بھارت اور دیگر ممالک کے بارے میں بھی سفارشات تیار کیں۔

انہوں نے میاں رضا ربانی کی سربراہی میں قائم کمیٹی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کمیٹی کی کارروائی کھلی ہوتی تو میڈیا اور سول سوسائٹی کی تجاویز بھی اس میں شامل کی جاسکتی تھیں۔

اسی بارے میں