اسامہ کی بیواؤں اور بیٹیوں کو ڈیڑھ ماہ قید

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک عدالت نے اسامہ بن لادن کی تین بیواؤں اور دو بیٹیوں کو ملک میں غیر قانونی طور پر داخلے اور قیام کے جرم میں پینتالیس دن قید کی سزا سنا دی ہے۔

جج نے ان پانچ خواتین پر فی کس دس ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

پیر کو اس مقدمے کی ان کیمرہ سماعت اسلام آباد کی ایمبیسی روڈ پر واقع اس گھر میں ہوئی جہاں اسامہ بن لادن کے اہلِ خانہ کو رکھا گیا ہے اور اسے سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی کے مطابق سماعت کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کی یمنی بیوی امل کے بھائی زکریا نے بتایا کہ ان کی بہن سمیت پانچ افراد پر عائد ہونے والا جرمانہ موقع پر ہی ادا کر دیا گیا ہے۔

اسامہ بن لادن کی تین بیوائیں، ان کے سات بچے اور اسامہ کی بیٹی کے چار بچے پاکستان میں ان کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔

عدالت میں ان میں سے پانچ بالغ افراد پر جن میں اسامہ کی تین بیوائیں اور دو بیٹیاں شامل ہیں، پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے اور رہائش رکھنے کے الزامات لگائے گئے تھے اور جج نے ان الزامات پر ہی انہیں ڈیڑھ ماہ قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔

اسامہ بن لادن کے اہلِ خانہ کے وکیل عاطف خان نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ قید کی مدت کا آغاز تین مارچ سے ہوا اور یوں اب ان افراد کو مزید پندرہ دن قید کاٹنا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ سزا کی مدت پوری ہونے کے بعد پاکستانی وزراتِ داخلہ کے احکامات پر ان پانچ افراد سمیت اسامہ بن لادن کے دیگر اہلِ خانہ کو بھی ملک بدر کر دیا جائے گا۔

جن خواتین کو سزا سنائی گئی ہے ان میں سے ایک یمنی اور چار سعودی ہیں۔ یمنی حکام پہلے ہی اسامہ کی بیوہ امل اور ان کے پانچ نابالغ بچوں کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کر چکے ہیں تاہم پاکستان میں تعینات سعودی سفیر ابراہیم الغدیر کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال سعودی عرب سے اس سلسلے میں کوئی ہدایت نہیں ملی ہے۔

پاکستان کے قانون کے مطابق ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی سزا تین سال سے دس سال تک قید کے علاوہ جرمانے کی سزا بھی ہوسکتی ہے جبکہ شناخت تبدیل کرنے کی سزا سات سال تک کی قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

اس طرح سے پاکستان کے قانون کے مطابق ملزم کو پناہ دینے کی سزا پانچ سال تک کی قید اور جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔

دو مئی دو ہزار دس کو ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی حکام نے ان کی تین بیواؤں اور بچوں کو اپنی تحویل میں لیا تھا اور دس ماہ بعد ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر کے کارروائی کی گئی ہے۔

اسی بارے میں